Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
466 - 627
معلوم ہوا کہ چاہے حکمران اپنی ذمہ داری نبھائیں یا نہ نبھائیں رعایا کو اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے جائزاُمور میں ان کی اطِاعت کرنی چاہیے، ہاں اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی والے کام کا حکم دیں تو اُن کی اطاعت نہیں کی جائے گی اس لئے کہ حدیث شریف میں ہے ’’لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللہِ‘‘ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی والے کام میں کسی کی اطاعت نہیں کی جائے گی ۔(مسلم ،کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ… الخ، ص۱۰۲۳، حدیث:۱۸۴۰) نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ ظالم حکمران کے ظلم پر صبر کرنا چاہیے اور اس سے خلاصی، اس کے شر سے بچنے اور اس کی اصلاح کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کرنی چاہیے اور ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرنی چاہیے کیونکہ ہمارے بُرے اعمال کے سبب ہم پر بُرے حکمران مُسَلَّط کر دیئے جاتے ہیں ہم ان حکمرانوں کو تو بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں لیکن اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے اگر ہم اپنی اصلاح کرلیں اور اپنے اعمال درست کرلیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ حکمرانوں کو بھی صحیح کردے گا جیسا کہ اس حدیثِ قُدسی سے صاف ظاہر ہوتاہے :قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:’’إِنَّ اللہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ: أَنَا اللہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنَا مَالِکُ الْمُلُوْکِ وَمَلِکُ الْمُلُوْکِ قُلُوْبُ الْمُلُوْکِ فِیْ یَدِیْ وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا أَطَاعُوْنِیْ حَوَّلْتُ قُلُوْبَ مُلُوْکِہِمْ عَلَیْہِمْ بِالرَّحْمَۃِ وَالرَّأْفَۃِ وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا عَصَوْنِیْ حَوَّلْتُ قُلُوْبَہُمْ بِالسُّخْطَۃِ وَالنِّقْمَۃِ فَسَامُوْہُمْ سُوْئَ الْعَذْابِ فَلَا تَشْغِلُوْاأَنْفُسَکُمْ بِالدُّعَائِ عَلَی الْمُلُوْکِ وَلٰکِنِ اشْغَلُوْا أَنْفُسَکُمْ بِالذِّکْرِ وَالتَّضَرُّعِ کَیْ أَکْفِیَکُمْ مُلُوْکَکُمْ ۔‘‘
ترجمہ:رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :’’میں اللہہوں ،میرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں ، باد شاہوں کے دل میرے دستِ قدرت میں ہیں ، جب لوگ میری اطاعت کریں تو میں ان(بادشاہوں ) کے دلوں کو رحمت اور نرمی کرنے کی طرف پھیر دیتا ہوں اور جب لوگ میری نافرمانی کریں تو میں اُن (بادشاہوں ) کے دلوں کو سختی اور سزا کی طرف پھیر دیتا ہوں پھر وہ لوگوں کو سخت ایذائیں دیتے ہیں ، تو تم اپنے آپ کو بادشاہوں کو بدعا دینے میں مشغول نہ کرو بلکہ ذکر اور عاجزی میں مصروف رہو تاکہ تمہارے بادشاہوں کی طرف سے میں کافی ہو جاؤں۔‘‘
(مشکاۃ المصابیح، کتاب الامارۃ والقضائ، الفصل الثالث، ۲/۳۴۳، حدیث:۳۷۲۱)