Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
464 - 627
حدیث نمبر: 51			 ناپسندیدہ اُمور پہ صبر
	عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ  أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’إِنَّہَا سَتَکُوْنُ بَعْدِیْ أَثَرَۃٌ وَأُمُوْرٌ تُنْکِرُوْنَہَا! قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللہِ ! فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: تُؤَدُّوْنَ الْحَقَّ الَّذِیْ عَلَیْکُمْ، وَتَسْأَلُوْنَ اللہَ الَّذِیْ لَکُمْ۔‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہ (بخاری، کتاب الفتن، باب قول النبی سترون بعدی امورا، ۴/۴۲۹، حدیث:۷۰۵۲، بتغیر قلیل)
 ’’والْاَثَرَۃُ‘‘: اَلْاِنْفِرَادُ بِالشَّیْئِ عَمَّنْ لَہُ فِیْہِ حَقٌّ
	ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’عنقریب میرے بعد کچھ ترجیحی سلوک اور ایسے کام ہونگے جو تمہیں ناپسند ہونگے ۔‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی :یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ایسی حالت میں ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا:’’ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہو اور اپنے حقوق اللہ عَزَّوَجَلَّ  سے مانگتے رہو۔ ‘‘
	اما نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں ’’اَثَرَۃٌ‘‘ کا معنی ہے مستحقین میں سے کسی کو دوسروں سے منفرد حیثیت دینا۔
حدیث نمبر: 52			حوضِ کوثر پرملاقات
	عَنْ اَبِیْ یَحْیٰی أُسَیْدِ بْنِ حُضَیْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَجُلًامِّنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ! اَلَا تَسْتَعْمِلُنِیْ کَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا؟ فَقَالَ:’’اِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِیْ أَثَرَۃً، فَاصْبِرُوْاحَتّٰی تَلْقَوْنِیْ عَلَی الْحَوْضِ۔‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہ۔ 	     (بخاری، کتاب مناقب الانصار،باب قول النبی للانصار اصبروا…الخ، ۲/۵۵۸، حدیث:۳۷۹۲)
	ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا اُسَیْد بن حُضَیْر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک انصاری صحابی نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یَارَسُولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ مجھے بھی عَامِل (زکوٰۃ وصول کرنے والا)کیوں نہیں بنا دیتے جس طرح فلاں کو بنایا ہے؟ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا :’’تم میرے بعد ترجیحی سُلوک دیکھوگے پس صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوضِ کوثر پر ملاقات کرو۔‘‘