نہیں معلوم میں پوچھ کے آتا ہوں۔پھر واپس آئے تو عرض کی:’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ کا رَبّ عَزَّوَجَلَّ آپ کو حکم دیتا ہے کہ جو آپ سے قطع تعلق کرے آپ اس سے صلہ رحمی کریں اور جو آپ سے کوئی چیز روکے آپ اسے عطا کریں اور جو آپ پر ظلم کرے آپ اس سے درگزر فرمائیں۔‘‘ تفسیرِ بغوی میں حضرتِ سَیِّدُنا جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے منقول ہے کہ قراٰن کریم میں اخلاق کے بارے میں اس سے زیادہ جامع آیت نازل نہیں ہوئی۔‘‘ (ملخصاًدلیل الفالحین، باب الصبر، ۱/۲۰۱۔۱۹۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے کہ اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کیسا صبراختیار فرمایا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عدل وانصاف کے پیکر تھے ۔اَعرابی کی الزام تراشی پر آپ کو بہت غصہ آیالیکن حضرت سَیِّدُناحُرّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمانِ خداوندی سن کر آپ کا غصہ جاتا رہا اور انتہائی صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ نے اُس اعرابی کومعاف کردیا ۔
یہ حقیقت ہے کہ نیک لوگ اپنی ذات کے لئے کسی پر غصہ کا نِفاذ نہیں کرتے بلکہ کسی نہ کسی اَحسن تدبیر سے اپنے غصے کو رضائے الٰہی کے لئے روک لیتے ہیں۔
چنانچہ، اس ضمن میں 4واقعات ملاحظہ فرمائیے!
(1) تین جملوں کے ذریعے غصے کا علاج
حضرتِ سَیِّدُنامُعْتَمِرْ بِنْ سُلَیْمَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں : تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص کوبہت زیادہ غصہ آتا تھا اس نے تین کاغذ اپنے ساتھیوں کو دئیے اور پہلے سے کہا کہ جب مجھے کسی پر غصہ آئے تو یہ کاغذ مجھے دے دینا، دوسرے سے کہا کہ جب میرا غصہ تھم جائے تو مجھے یہ کاغذ دے دینا ، تیسرے سے کہا کہ جب میرا غصہ بالکل ختم ہوجائے تب مجھے یہ کاغذ دینا۔ ایک دن اسے کسی پر بہت زیادہ غصہ آیا تو اسے پہلا کاغذ دیا گیا اس میں لکھ تھا ’’اس غصے سے تیرا کیا تعلق ؟ تو خدا نہیں بلکہ عام سا انسان ہے، عنقریب تیرے جسم کا بعض حصہ دوسرے بعض