روگردانی کرو۔‘‘اور یہ نا سمجھ لوگوں میں سے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم اس آیت کی تلاوت کے بعد اَمِیْرُ المُوْمِنِیِنحضرتسَیِّدُنَا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کچھ حرکت نہ کی اور آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب پر بہت عمل کرنے والے تھے ۔
’’عُیَیْنَہ‘‘ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے طُلَیْحَہ بِنْ اَسَدِی کی موافقت کی جس نے نبوت کا دعوی کیا تھا، جب مسلمانوں نے مرتدین پر دھاوا بولا تو طُلَیْحَہ کَذَّاب فرار ہوگیا اور عُیَیْنَہ کو پکڑ کر اَمِیْرُالْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس لایا گیا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے توبہ کرائی تو وہ توبہ کر کے مسلمان ہوگئے ۔(اُسدُ الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ۴/۳۵۴) یہ دیہات کے رہنے والے تھے ۔ ایک مرتبہ اپنے بھتیجے حضرتِ سَیِّدُنا حُرّبِنْ قَیْس بِنْ حِصْن فَزَارِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آئے اورکہا کہ اے میرے بھتیجے! تم اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے رُفقامیں سے ہو، ان کے ہاں تمہاری عزت و وجاہت ہے مجھے ان کے پاس لے چلو۔ چنانچہ ،حضرتِ سَیِّدُنا ابن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ انہیں اپنے ساتھ دربارِ فاروقی میں لے گئے ، وہاں پہنچ کر عُیَیْنَہ نے کہا: ’’اے عمر بن خطاب (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) !آپ ہمیں نہ تو زیادہ مال دیتے ہیں اور نہ ہی ہمارے ساتھ انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں۔یہ سن کر آپ کو شدید غصہ آیا کیونکہ آپ پر مستحقین کو ان کا حق نہ دینے اور معاملات میں انصاف نہ کرنے کا سنگین الزام لگایا گیاتھا ۔چنانچہ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے سزا دینے کا ارادہ کیا ، تو حضرتِ سَیِّدُنَاحُرّرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی: یااَمیْرَ الْمُؤمِنِیْنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ!بے شک !اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے نَبِیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حِلْم اور عَفْو و دَرگُزَر پر ابھارتے ہوئے فرمایا :’’اے محبوب معاف کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔‘‘ جب حضرتِ سَیِّدُنَاحُرّرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ آیت تلاوت کی تو حضرت سَیِّدُنَا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس آیت کے خلاف نہیں کیا( اور اسے معاف کر دیا)حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :یہ آیت لوگوں کے اَخلاق کے بارے میں نازل ہوئی ۔ مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُناجبریل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام سے فرمایا یہ کیا ہے ؟ عرض کی: مجھے R