Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
459 - 627
حدیث نمبر: 50			 قراٰن سن کر غصہ جاتا رہا
	عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَدِمَ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ فَنَزَلَ عَلٰی ِابْنِ أَخِیْہِ الْحُرِّ بْنِ قَیْسٍ۔وَکَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِیْنَ یُدْنِیْہِمْ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، وَکَانَ الْقُرَّائُ أَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ وَمُشَاوَرَتِہِ کُہُوْلًا کَانُوْا أَوشُبَّانًا۔ فَقَالَ عُیَیْنَۃُ لِابْنِ أَخِیْہِ: یَا ابْنَ أَخِیْ!  لَکَ وَجْہٌ عِنْدَ ہَذَا الْأَمِیْرِ فَا سْتَأْذِنْ لِیْ عَلَیْہِ، فَاسْتَأْذَنَ فَاَذِنَ لَہُ عُمَرُ۔فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ: ھِیَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! فَوَاللہِ! مَا تُعْطِیْنَا الْجَزْلَ وَلَا تَحْکُمُ فِیْنَا بِالْعَدْلِ، فَغَضِبَ عُمَرُرَضِیَ اللہُ عَنْہُ حَتّٰی ہَمَّ أَنْ یُوْقِعَ بِہٖ ،فَقَالَ لَہُ الْحُرُّ: یَا أَمِیْرَالْمُؤْمِنِیْنَ! إِنَّ اللہَ تَعَالٰی قَالَ لِنَبِیِّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ{خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ }وَإِنَّ ہَذَا مِنَ الْجَاہِلِیْنَ، وَاللہِ مَا جَاوَزَہَا عُمَرُحِیْنَ تَلَاہَا، وَکَانَ وَقَّافًا عِنْدَ کِتَابِ اللہِ تعالٰی۔رَوَاہُ الْبُخَارِی             (بخاری، کتاب التفسیر، الاعراف، ۳/۲۲۷، حدیث:۴۶۴۲، بتغیر قلیل)
	ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں کہعُیَیْنَہ بن حِصْنِ  آئے اور اپنے بھتیجے حُرّبِنْ قَیْس کے پاس ٹھہرے۔ حُرّبِنْ قَیْس اَمِیْرُ المُوْمِنِیِن حضرت سَیِّدُنَا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مُقَرَّبِیْن میں سے تھے۔ قُرَّاء حضرات،اَمِیْرُ المُوْمِنِیِنحضرتسَیِّدُنَا  عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جَلِیْس(ساتھ بیٹھنے والے) اور مُشِیْر (مشورہ دینے والے)تھے، کچھ بوڑھے تھے کچھ جوان ، عُیَیْنَہ نے اپنے بھتیجے سے کہا ، بھتیجے ! اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کے ہاں تیری عزت ہے، میرے لیے وہاں جانے کی اجازت طلب کر، انہوں نے اجازت مانگی تو اَمِیْرُ المُوْمِنِیِنحضرت سَیِّدُنَا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اجازت دے دی، جب حاضر ہوئے تو عرض کی: ’’اے عمر بن خطاب(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) !اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! نہ تو آپ ہمیں زیادہ دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں ‘‘ اَمِیْرُ المُوْمِنِیِنحضرت سَیِّدُنَا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  غضب ناک ہوگئے قریب تھا کہ انہیں سزا دیتے ۔( یہ دیکھ کر) حضرت حُرّبِنْ قَیْسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی ’’ اے اَمیْرُ الْمُؤمِنِیْنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے نَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے فرمایا :’’ عفو و درگزر کرو، نیکی کا حکم دو، اور جاہلوں سے