Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
458 - 627
 بیماری وغیرہ سے معاف نہیں ہوتے، حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ مقروض یا بے نماز ی جب کبھی بیماری سے اٹھے تو گزشتہ قرضے بھی معاف ہوگئے اور نہ پڑھی ہوئی نماز یں بھی۔ ‘‘(مراٰۃ المناجیح، ۲/۴۱۸)
بیمار نہ ہو تو فکر کرے 
 	 بیماری بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اگر ہم کبھی بیمار پڑ جائیں تو اس پر شکر کرنا چاہیے کہ    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں بیماری عطا فرمائی کیونکہ بیماری سے گناہ جھڑتے ہیں اور اگر کسی شخص پر کوئی بیماری یا مصیبت نہ آئے تو اسے فکر کرنی چاہیے کہ کہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے چھوڑ تو نہیں دیا۔  اِمامِ اَہْلسُنّت، ولیِ نِعمت،عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت، پَرْوَانۂ شَمْعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت مولانا شاہ امام اَحْمَد رَضا خَانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں : ’’ اگر چالیس (40)دن گزر جائیں کہ کوئی عِلّت (یعنی بیماری یا تکلیف )یا قِلَّت (یعنی تنگی )یا ذلّت نہ ہو تو خوف کرے کہ کہیں چھوڑ نہ دیا گیا ۔‘‘(ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص۱۵۹) 	 
مدنی گلدستہ 
’’احمد‘‘کے4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) بندہ ٔ مومن پر جو بھی مصیبت یا بیماری آتی ہے وہ اس کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔
(2) اگر مصیبت پر ثواب کی نیت سے صبر کیا جائے تو اس پر اجرِ عظیم ملتا ہے ۔
(3) بیماری یا مصیبت سے انسان کیحقوقُ اللہ سے متعلق صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
(4) جب مصیبت آئے تو یہ ذہن بنانا چاہیے کہ جو خدائے بُزُرگ وبرتر ہم پر اپنی نعمتوں کی چھما چھم برسات فرماتا ہے یہ مصیبت اسی کی جانب سے ہے اور اس میں ہماری بھلائی پوشیدہ ہے ،تو اس طرح مصیبت پر صبر کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔ 
  صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد