اور دوسروں کو یہاں تک کہ جانوروں اور دوسری اشیاء تک کو مارنے یا توڑنے لگتا ہے، بلاوجہ پاگل شخص کی طرح بھاگنے لگتا ہے اور بعض اوقات زمین پر گر جاتا ہے اور حرکت تک نہیں کر سکتا بلکہ غضب کی زیادتی کی وجہ سے اس پر غشی کی حالت طاری ہو جاتی ہے۔دل پر اس کے اثرات یہ مرتب ہوتے ہیں کہ جس پر غصہ ہو اس کے خلاف دل میں کینہ اور حسد پیدا ہو جاتا ہے، اس کی مصیبت پر خوشی کا اورخوشی پر غم کااظہار کرتا ہے، اس کا راز فاش کرنے، دامنِ عزت چاک کرنے اور مذاق اُڑانے کا عزمِ مُصَمَّم (یعنینی پختہ ارادہ)کرلیتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی برائیاں ایسی ہیں جن کا سبب غصہ بنتا ہے ۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر، ۱/۱۱۸۔۱۱۹)
معلوم ہوا کہ بے جا غصہ ایک مذموم صفت ہے اور غصے کی حالت میں انسان قطع تعلق کرتا، انتقامی کاروائی کرتا اور مَغْضُوْب عَلَیْہ کو نقصان پہنچاتا ہے لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے بلکہ صبر کرتے ہوئے غصہ پی جائے تو اس کے لئے بڑا اَجروثواب ہے ۔شیخِ طریقت امیر اہلسنت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرکَاتُہُمُ العَالِیَۃاپنے رسالے ’’غصے کا علاج‘‘ کے صفحہ نمبر ۹ پر غصے کا ایک علاج یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ غُصّہ پی جانے اور درگزر سے کام لینے کے فضائل سے آ گاہی حاصل کرے ، جب کبھی غُصّہ آئے اُن فضائل پر غور وفکر کرکے غُصّے کو پینے کی کوشِش کرے۔ غصہ پینے والوں کے لئے جنت کی بشارت سنائی گئی ہے۔ چنانچہ ،
جنت کی بشارت
حضرتِ سَیِّدُناابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنَّت میں داخِل کر دے؟ فرمایا :’’ لَا تَغْضَبْ وَلَکَ الْجَنَّـۃُ‘‘ یعنی غُصّہ نہ کرو، تو تمہارے لئے جنَّت ہے۔ (مجمع الزوائد، ۸/۱۳۴، حدیث:۱۲۹۹۰)
کیا ہر غُصّہ حرام ہے؟
عوام میں یہ غَلَط مشہور ہے کہ’’غُصّہ حرام ہے‘‘ غُصّہ ایک غیر اختیاری امر ہے، انسان کو آہی جاتا ہے، اِس