Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
454 - 627
	 مومن کی ایک نشانی یہ ہے کہ اُسے جلدی غُصّہ آتا ہے تو جلدہی چلا بھی جاتا ہے۔ 
 مومن کا غصہ
	 فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے :اَلْمُؤمِنُ سَرِیْعُ الْغَضَبِ سَرِیْعُ الرِّضَا،ترجمہ :مومن کو جلدی غُصّہ آتا ہے اور وہ جلد ہی راضی ہوجاتا ہے۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۲۳)
	جب انسان کو غصہ آتا ہے تو دِلی کیفیت بدلنے کے ساتھ ساتھ اعضا ئے ظاہری پر بھی غصہ کی علامات با آسانی محسوس کی جاسکتی ہیں۔چنانچہ ،غصے کے نتیجے میں ہونے والے اثرات بیان کئے جاتے ہیں 
 غصے کے اثرات
	رنگ متغیر ہوجانا، کندھوں پر کپکپی طاری ہونا، اپنے افعال پر قابو نہ رہنا، حرکات وسکنات میں بے چینی کا پایا جانا، نیز کلام کا مُضْطَرِب ہوجانا (زبان پر قابو نہ رہنا) یہاں تک کہ باچھوں (ہونٹوں کے سِروں ) سے جھاگ نکلنے لگتا ہے، آنکھوں کی سرخی حد سے بڑھ جاتی ہے، نتھنے پھول جاتے ہیں ، بلکہ ساری صورت ہی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی غضبناک شخص اس حالت میں اپنی ہی شکل دیکھ لے تو شرم کے مارے اپنی خوبصورت شکل کو بدصورتی میں تبدیل پا کر خود بخود ہی اس کا غصہ ختم ہو جائے گا، کیونکہ کسی بھی انسان کی ظاہری حالت اس کی باطنی کیفیت کی عکاس ہوتی ہے۔ لہٰذاجب باطنی کیفیت ہی بُری ہو گی تو ظاہری حالت بھی اسی برائی پر پروان چڑھے گی، لہٰذا ظاہر کی تبدیلی حقیقت میں باطن کی تبدیلی کانتیجہ ہوتی ہے۔
	زبان پر غصے اور غضب کے اثرات اس طرح مرتب ہوتے ہیں کہ اس سے بری باتیں نکلتی ہیں مثلاً ایسی فحش اور گندی گالیاں وغیرہ کہ جن سے ہر صاحبِ عقل انسان کو حیا آتی ہے، ایسی گفتگو کرنے والے شخص کو غصے کے وقت اپنی باتوں پر قابو نہیں رہتا بلکہ اس کے الفاظ بھی بے ربط اورخلط ملط ہو جاتے ہیں۔ پھرنوبت مار پیٹ بلکہ قتل وغارت گری   تک جا پہنچتی ہے، اگر کوئی شخص بدلہ نہ لے سکتا ہو تووہ اپنا غصہ خود پر ہی نکالنے لگتا ہے ، اپنے کپڑے پھاڑتا اپنے آپ کو