Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
456 - 627
میں اس کاقُصُور نہیں ، ہاں غصے کا بے جا استعمال بُراہے ۔ بعض صورتوں میں غُصّہ ضَروری بھی ہے مثلًا جِہاد کے وَقت اگرغُصّہ نہیں آئے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمنوں سے کس طرح لڑیں گے! بہر حال غُصّے کا’’اِزالہ‘‘(یعنی اس کا نہ آنا)ممکن نہیں ’’اِمالہ‘‘ ہونا چاہئے یعنی غُصّہ کا رُخ دوسری طرف پھر جانا چاہئے۔یہ آخِرت کیلئے انتِہائی مفید ہے۔(غصے کا علاج، ص۲۷)اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے غصے پر قابو پانے کی توفیق عطا فرمائے !
 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
 مدنی گلدستہ 
’’ فاروق‘‘  کے 5حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مد نی پھول
(1) جنت کے طلبگار کواپنے غصے پر قابو رکھنا چاہیے۔ 
(2) غصہ انسان کی حالت میں ایسی تبدیلی کر دیتا ہے کہ غصہ والا شخص اپنی صورت دیکھ لے تو غصے سے باز آجائے۔ 
(3) غصہ نرمی سے روکتا ، قطع تعلق کرواتا ، دوسروں کو ایذا دینے پر ابھارتا اور اس کے علاوہ اور بہت سی اخلاقی بیماریوں کا سبب بنتا ہے ۔
(4) جب کوئی ہمیں غصہ دلائے تو ہمیں اپنے اَسلاف کی پیروی کرتے ہوئے اپنی خامیوں پر نظر رکھنی چاہیے اور اس شخص سے صَرفِ نظر کرتے ہوئے صبر سے کام لینا چاہیے۔
(5) غصہ آنا برا نہیں بلکہ غصے کابے جا استعمال بُرا ہے ۔
	یا رَبَّ الْعَالَمِیْنعَزَّوَجَلَّ !بَطُفیلِ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں اپنے قہر و غضب سے بچا اوردنیا و آخرت میں اپنی حفظ و امان میں رکھ!  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم