Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
453 - 627
: تیرے سوا کسی نے مجھے نہیں پہچانا۔گویا آپ اپنے آپ سے ریاکاری کی آفت کو دور کرنے میں مشغول تھے اور جو کچھ شیطان کہتا تھا اس کا انکار فرماتے تھے، لہٰذا جب آپ کو رِیاکار کہا گیا تو آپ نے غُصّہ نہ کیا ۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)
 برائی کرنے والے کے لئے دعائے مغفرت
	ایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوَلِیّ کو گالی دی تو انہوں نے فرمایا :اگر تو (اپنی بات میں ) سچاہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے بخش دے اور اگر تو جھوٹاہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے بخش دے۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)
	 امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی ان واقعات کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :’’ ان واقعات سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کو غُصّہ نہیں آتا تھا کیونکہ ان کے دل اہم دینی اُمورمیں مشغول ہوتے تھے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گالی گلوچ اُن کے دلوں پر اثر انداز ہوتی ہو لیکن یہ اس طرف توجہ ہی نہ کرتے ہوں کیونکہ وہ اس بات میں مشغول ہوتے تھے جس کا اُن کے دلوں پر غلبہ تھا ، تو بعید نہیں کہ دل کا بعض اَہم امور میں مشغول ہونا بعض پسندیدہ چیزوں کے چلے جانے پر غُصّہ آنے کو روک دے اس وقت غصے کا مفقود ہونا متصور ہوگا۔‘‘  (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)
ایک جملے میں تمام اَخلاق
	حضرتِ سَیِّدُنا حسن بصر ی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :اے انسان ! جب تو غصے میں آتا ہے تو اُچھلتا ہے خیال کرکہیں ایسا نہ ہو کہ توجہنم میں چھلانگ لگابیٹھے۔ حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے عرض کی گئی کہ ایک جملے میں بتائیے کہ اچھے اخلاق کیا ہیں ؟ فرمایا :غصے کو چھوڑدینا ۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۰۵۔ ۲۰۶)
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی کو گالی نہیں دی کیونکہ اگر کوئیمُعَزَّز آدمی میری برائی کرے تو مجھے چاہیے کہ اسے معاف کردوں اور اگر کوئی کمینہ گالی دے تو مجھے اپنی عزت کو اس کا نشانہ نہیں بنانا چاہئے  پھر یہ شعر پڑھا :
وَاَغْفِرُعَوْرَائَ الْکَرِیْمِ اِدِّخَارَہُ 			وَاَعْرِضُ عَنْ شَتْمِ اللَّئِیْمِ تَکَرُّماً  
 ترجمہ :معزز آدمی کی خطا معاف کرتا ہوں تاکہ اجر ملے اور کمینے کی غلطی سے اپنی عزت بچانے کے لئے درگزر کرتا ہوں۔ (احیاء العلوم، ۲/۲۳۱)