Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
452 - 627
دل کو راہِ حق سے ہٹادیتی ہے۔(احیاء العلوم، ۳/۲۰۴)
مسلمانوں کی عمدہ صفات 
	حضرتِ سَیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : یہ باتیں مسلمانوں کی علامات میں سے ہیں :  دین میں مضبوطی ، نرمی برتنے میں احتیاط ، ایمان یقین کے ساتھ ، علم بردباری کے ساتھ، رَفاقت سمجھ داری کے ساتھ، حقوق کی ادائیگی ، مالداری میں میانہ رَوی ،فاقہ میں اچھی طرح صبر ، باوجود طاقت کے احسان، رفاقت میں برداشت، سختی میں صبر ، غصے سے مغلوب نہ ہونا،غیرت وحمیت سرکشی پر نہ ابھارے ، شہوت غالب نہ ہو، پیٹ رسوا نہ کرے،   حِرْصذَلیل نہ کرے،نیت میں کوتاہی نہ ہو، مظلوم کی مدد کرے اور کمزورپر رحم کھائے ،نہ کنجوسی کرے اور نہ حد سے زیادہ خرچ کرے، جب کوئی ظلم کرے تو اسے معاف کر دے اور جاہل سے درگزر کرے ،خود مَشَقَّت اٹھائے لیکن دوسروں کو آسانی پہنچائے۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۰۶)
	 ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے سامنے جب غصہ دلانے والی باتیں کی جاتیں تو وہ غُصّہ نہ کرتے بلکہ ان کی تمام تر توجہ اپنی آخرت کی طرف رہتی تھی اور شیطان کے اس وار کو ناکام بنا دیتے۔ چنانچہ،
فکرِ صدیقی
	منقول ہے کہ ایک شخص نے اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو برا بھلا کہا تو آپ نے فرمایا :’’جو کچھ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھ سے چھپا رکھا ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے ۔‘‘ گویا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اللہعَزَّوَجَلَّ کے خوف اور اس کی مزید معرفت کے حصول میں مشغول تھے اسی لئے آپ نے اپنی عیب جوئی کرنے والے پر غصہ نہ کیا ۔		 (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)
تو نے مجھے پہچان لیا 
 	ایک عورت نے حضرتِ سَیِّدُنامالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار سے کہا:’’ اے ریا کار!‘‘ آپ نے فرمایا: