Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
451 - 627
جیسا مریض ویساعلاج 
	علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الغَنِیْ  فرماتے ہیں :’’حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سائل کو’’لَاتَغْضَبْ‘‘  اس لئے فرمایا کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کی طبیعتیں جانتے تھے اس لئے جس کی جیسی طبیعت ہوتی اُسے ویسا ہی حکم ارشاد فرماتے ، شاید کہ وہ صاحب بہت غصے والے تھے اسی لئے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں غصہ ترک کرنے کی وصیت فرمائی ۔‘‘ عَلَّامَہ اَبُو سَعِیْد عَبْدُ اللہ بِنْ عُمَر بَیْضَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی فرماتے ہیں : چونکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جانتے تھے کہ انسان کے اندر جتنی بھی برائیاں پیدا ہوتی ہیں وہ اس کی خواہشات اور غصے کی وجہ سے ہوتی ہیں اس لئے غصے کا تقاضہ کرنے والے اسباب کو چھوڑنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ پس جب اس شخص نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کسی ایسے اہم امر کی رہنمائی چاہی جس کے ذریعے وہ برائی اور غصے جیسے بڑے نقصان و بڑے گناہ سے بچے اور اپنے سب سے بڑے دشمن(نفس) پر غلبہ حاصل کرسکے تو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے غصے سے بچنے کا حکم ارشاد فرمایا ۔
(عمدۃ القاری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۱۵/۲۵۵، تحت الحدیث:۶۱۱۶)
 سب سے زیادہ سخت چیز
	ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ کونسی چیز سب سے زیادہ سخت ہے؟ فرمایا:اللہ عَزَّوَجَلَّ کا غضب۔ عرض کی: مجھے غضب ِالٰہی سے کیا چیز بچا سکتی ہے ؟ فرمایا : غصہ نہ کیا کرو۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۰۵)
رَبِّ سَتَّار پردہ پوشی فرمائے گا
جو شخص اپنے غصے کوروکے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔  (معجم کبیر،عمر بن دینار عن ابن عمر،۱۲/۳۴۶،حدیث:۱۳۶۴۶)
غصہ کی کثرت راہِ حق سے ہٹا دیتی ہے 
حضرتِ سَیِّدُنا سیلمان بن داؤد عَلَیْھِمَا السَّلَام نے فرمایا: زیادہ غصہ کرنے سے بچو کیونکہ غصے کی کثرت بُرْدبار آدمی کے