Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
424 - 627
ناخوش ہوا اس کے لئے ناراضی ہے۔ امام ترمذی (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) نے فرمایا کہ یہ حدیث حَسَن ہے
 پہلے رب راضی ہوتا ہے پھر بندہ 
	عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مِرقاۃ شرح مِشکاۃ میں اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں :   اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دنیا میں ہی اس کے گناہوں کی سزا دے دیتا ہے کیونکہ آخرت کا عذاب بہت سخت اور ہمیشہ رہنے والا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا اُس سے روک رکھتا ہے یعنی آخرت میں اسے اس کے گناہوں کی پوری پوری سزا دے گا ۔  
	اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی قوم سے محبت کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو انہیں مصیبت میں مبتلا فرماتاہے تو مصیبت دوستی کے لئے ہے اور اس میں مبتلا اَولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام کو کیا جاتا ہے ، پس جو اس مصیبت پر راضی رہا تو اس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا ہے۔ یا یہ معنی ہیں کہ اسے دنیا اور آخرت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا حاصل ہوگی اور جس نے مصیبت پر صبر نہ کیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فیصلے پر راضی نہ رہا تو اس کے لئے دنیا میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی اور آخرت میں اس کا غضب ہے ۔ علامہ مِیْرَک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَقّ  فرماتے ہیں : مصیبت کا آنا محبت کی علامت ہے پس جو مصیبت آنے پر راضی رہا تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے اور جو مصیبت پر ناراض ہوا تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ناپسندیدہ بندہ بن جاتا ہے ۔    (مرقاۃ المفاتیح،کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض… الخ، ۴/۴۲، تحت الحدیث: ۱۵۶۶)
	علامہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :اس سے پتا چلا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا بندے کی رضا سے پہلے ہے پہلے رب راضی ہوتا ہے پھر بندہ راضی ہوتا ہے جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ   کا فرمان ہے :
رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ  (پ۳۰، البینۃ:۸) ترجمۂ کنز الایمان :اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی۔
 (شرح الطیبی، کتاب الجنائز ، باب عیادۃ المریض…الخ، ۳/۳۲۴، تحت الحدیث:۱۵۶۶)