مصیبت گناہوں کا کفارہ ہے
اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا اسے دنیا ہی میں دے دیتاہے کبھی خود اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے کبھی دوست کی موت کی شکل میں کبھی مال کے ضائع ہونے کی صورت میں ، اگر وہ تقدیر سے نہ اُکتائے تو یہ مصیبتیں اس کی خطاؤں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور قیامت کے دن اسے پورا اَجر دیا جائے گا،وہ گناہوں سے پاک ہوجائے گا۔اوراگر وہ گناہ گار نہ ہو اور اس پر مصیبت نازل ہو تو وہ مصیبت اس کے درجات کی بلندی کا سبب بن جاتی ہے اسی پر اس حدیث کو محمول کیا جائے گا جس میں فرمایا ’’اَشَدُّالنَّاسِ بَلَائً اَ لْاَنْبِیَاءُ‘‘ (یعنی لوگوں میں سب سے زیادہ مصائب انبیائے کرامعَلَیْھِمُ السَّلَام پر آتے ہیں )۔ حدیثِ مذکور میں لوگوں کو تقدیر میں لکھی ہوئی مصیبتوں پر صبر کی ترغیب دلائی گئی ہے کیونکہ لوگوں کے لئے صبر کرنا ہی بہتر ہے۔ پس جس نے صبر کیا وہ کامیاب ہوا اور جس نے تقدیر پر صبر نہ کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی لکھی ہوئی تقدیر بدل تو سکتی نہیں ہے پس اس نے بلندی ٔدرجات اور گناہوں کی معافی جیسی نعمت کو گنوا دیا ۔(ملتقطا، دلیل الفالحین، باب الصبر،۱/۱۸۷، تحت الحدیث:۴۳)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : گناہوں پر دنیا میں پکڑ ہوجانا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کی علامت ہے اور باوجود سرکشی وزیادتیِ گناہ کے ہر طرح کا عیش ملنا غضبِ الٰہی کی نشانی ہے کہ اس کا منشا یہ ہے کہ تمام گناہوں کی سزا آخرت میں دی جائے ( اﷲ کی پناہ) مقصد یہ ہے کہ کسی مومنِ صالح کو بلاؤں میں گرفتار دیکھ کر یہ نہ سمجھ لو کہ یہ بُرا آدمی ہے، نیک لوگوں پر بڑی مصیبتیں بڑے درجات ملنے کا ذریعہ ہیں حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کافر و بدکار پر بڑی بلا آجائے تو اس کا درجہ بڑا ہوگیا، یہ سب کچھ مومن کے لیے ہے ، مُردے کو بہترین دوائیں دینا بے کار ہے، جڑ کٹے درخت کی شاخوں کو پانی دینا بے سود، اگر کافر عمر بھربھی مصیبت میں رہے، جب بھی دوزخی ہے اوراگر مومنِ صالح عمر بھر آرام میں رہے جب بھی جنتی۔ ہاں تکلیف والے مومن کے درجے زیادہ ہوں گے بشرطیکہ صابر اور شاکر رہے ۔ خیال رہے کہ رضا یا ناراضی دل کا کام ہے، لہٰذا تکلیف