Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
423 - 627
(4) اگر کوئی شخص کسی حاکم یا معظم دینی کے بارے میں کوئی ایسی بات کہے جو اس کی شان کے خلاف ہو تو کسی کا اس تک    یہ بات پہنچا دینا جائز ہے ۔
(5) ہماری ذات کے بارے میں چاہے کوئی کیسی ہی غصہ دلانے والی بات کہے ہمیں غصہ پی کر صبر سے کام لینا چاہئے۔
 (6) احکام شریعت کی خلاف ورزی دیکھ کر غصہ آنا مذموم نہیں محمود ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں غصہ پینے اور مواقع اظہار پر اسے ظاہر کرنے کی توفیق عطا فرمائے! 
 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭٭٭٭٭
حدیث نمبر: 43			بڑی مصیبت پربڑا اَجر
	عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَرَادَ اللہُ بِعَبْدِہٖ خَیْرًا عَجَّلَ لَہُ الْعُقُوْبَۃَ فِی الدُّنْیَا، وَإِذَا أَرَادَ اللہُ بِعَبْدِہِ الشَّرَّ أَمْسَکَ عَنْہُ بِذَنْبِہٖ حَتّٰی یُوَافِیَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
وَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’ إِنَّ عِظَمَ الْجَزَائِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَائِ، وَإِنَّ اللہَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا اِبْتَلَاہُمْ، فَمَنْ رَضِیَ فَلَہُ الرِّضٰی، وَمَنْ سَخِطَ فَلَہُ السُّخْطُ‘‘۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِی وَقَالَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ
                  (ترمذی، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی الصبر علی البلائ، ۴/ ۱۷۸، حدیث: ۲۴۰۴، بتغیر قلیل)
	ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کو جلد ہی دنیا میں سزا دے دیتا ہے اور جب کسی بندہ کے ساتھ برائی کا قَصد فرماتا ہے تو گناہ کے باوجود اس کی سزا روک رکھتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دے گا۔
	 نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ بھی فرمایا کہ ثواب کی زیادتی مصائب کی زیادتی پر موقوف ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے اسے آزماتا ہے پس جو (اس حالت میں ) خوش رہا اس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا ہے اور جو