اللہ عَزَّوَجَلَّ نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی حَمِیَّت اور شدت کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا :
اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍعَلَی الْکٰفِرِیْنَ (پ۶، المائدۃ: ۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان :مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت۔
ایک اور مقام پر ارشادِہوتا ہے :
اَشِدَّآء ُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآء ُ بَیْنَھُمْ (پ۲۶، الفتح:۲۹) ترجمۂ کنز الایمان :کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔
دین کی خاطر غصہ نیک لوگوں کوہی آتا ہے
فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے :’’دین کے لئے غصہ میری اُمت کے بہترین اور نیک لوگوں ہی کو آتاہے۔ ‘‘
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق، قسم الاقوال ،۲/۵۵،حدیث:۵۸۰۰، الجزء الثالث)
ایک اور حدیث میں فرمایا گیا کہ ’’سینوں میں موجود قراٰنِ کریم کی عزت وعظمت کی خاطر حاملینِ قراٰن کو بھی غصہ لاحق ہو جاتاہے ۔‘‘
(کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال ، ۲ /۵۵، حدیث:۵۷۹۹ ، الجزء الثالث)
مد نی گُلد ستہ
’’صبرِ نبی‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیث مبارکہ
اور اسکی وضاحت سے ملنے والے6 مد نی پھول
(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر عطا فرماتا ہے ۔
(2) صبر انبیائے کِرام عَلَیْھِمُ السَّلَام اور صالحین کی صفات میں سے ایک اعلیٰ صفت ہے ۔
(3) حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی توہین کرنا بالاجماع کفر اور آپ کی توہین کرنے والا واجب القتل ہے