Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
421 - 627
  اُمت کے بہترین لوگ
	نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’ میری اُمت کے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جب انہیں غصہ آجائے تو فوراً رُجوع کر لیتے ہیں۔‘‘ 	(معجم الاوسط ، ۴/ ۲۲۴، حدیث:۵۷۹۳)
 سب سے زیادہ اَجر والاگُھونٹ
	فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے :’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک اس گھونٹ سے زیادہ اجر والاکوئی گھونٹ نہیں جوغصے کا گھونٹ بندے نے رضائے الٰہی کے لئے پیا۔‘‘
(ابن ماجہ ، کتاب ابواب الزھد ، باب الحلم،  ۴/ ۴۶۳، حدیث:۴۱۸۹)
سینہ ایمان سے بھر دیا جاتا ہے 
	فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک کوئی گھونٹ اتنا پسندیدہ نہیں جتنا بندے کاغصے کا گھونٹ پینا پسند ہے، جو بندہ غصہ پی لیتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے سینے کو ایمان سے بھر دیتا ہے۔‘‘
 (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲/۵۶، حدیث:۵۸۱۸، الجزء الثالث (
غصہ آنا بھی چاہیے
	یاد رکھیے !فی نفسہ غصہ بُرا نہیں ہاں غصے میں آکر شریعت کی نافرمانی کرنا مذموم و ناجائز ہے۔ صحیح موقع پر غصہ آنا مومن کی علامت ہے ۔غصہ میں تفریط یعنی اس قدر کم غصہ آنا کہ بالکل ہی ختم ہو جائے یا پھر یہ جذبہ ہی کمزور پڑجائے، یہ ایک مذموم صفت ہے کیونکہ ایسی صورت میں بندے کی مُرُوَّت اور غیرت ختم ہو جاتی ہے اورجس میں غیرت یامروّت نہ ہو وہ کسی قسم کے کمال کا اہل نہیں ہوتا کیونکہ ایسا شخص عورتوں بلکہ حشراتُ الارض(یعنی زمینی کیڑے مکوڑوں ) کے مشابہ ہوتا ہے۔ حضرتِ سَیِّدُناامام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کے اس قول کا یہی معنی ہے:’’جسے غصہ دلایا گیا اور وہ غصہ میں نہ آیا تو وہ گدھا ہے اورجسے راضی کرنے کی کوشش کی گئی اور وہ راضی نہ ہوا تو وہ شیطان ہے۔‘‘ (الزواجر عن اقتراف الکبائر، ۱/۱۰۳)