کی جاسوسی کرنا جائز ہے تاکہ ان کے مکرو فریب سے بچا جائے اور جس شخص نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بارے میں یہ بات کہی بے شک وہ بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہوا پس اس کے لئے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ۔‘‘
(فتح الباری، کتاب الادب، باب الصبر فی الاذی، ۱۱/ ۴۳۴)
حدیثِ مذکور میں ہے کہ نَبِیِّ مُعَظَّم ،رَسُولِ مُحتَرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس انصاری کی بات سے سخت صدمہ پہنچا اور آپ کواتنا جلال آیا کہ چہرہ ٔانور سرخ ہوگیا لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غصے پر قابو رکھا، صبر فرمایا اور کسی قسم کی کوئی انتقامی کار وائی نہیں کی۔چنانچہ، ہمیں بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس سلوک سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور غصے کے وقت اپنے اوپر قابو رکھنا چاہیے ۔ لیکن یہ اسوقت ہے جب معاملہ ہماری اپنی ذات سے متعلق ہو اور اگر کوئی بدبخت شخص اللہ عَزَّوَجَل یا اس کے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یااسکے دین کی توہین کرے تو ہمیںاسے معاف کرنے کا اختیار نہیں ۔ جب اپنی ذات سے متعلق کسی با ت پر غصہ آئے تو کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس میں اپنا نقصان کر بیٹھیں، عموماً غصے کی حالت میں انسان ایسا کام کر جاتا ہے جس کے بعد اسے پچھتا نا پڑتاہے ، کیونکہ غصے کی حالت میں شیطان انسان سے اس طرح کھیلتا ہے جیسے بچہ گیند سے کھیلتا ہے ۔
کئی آیات مقدسہ اور احادیثِ مبارکہ میں غصہ پینے کی فضیلت وارد ہوئی ہے یہاں چند فضائل بیان کئے جاتے ہیں :
غصہ پینے کے فضائل
اللہ عَزَّوَجَلَّ قراٰن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :
وَالْکٰظِمِیۡنَ الْغَیۡظَ وَالْعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ﴿۱۳۴﴾ۚ
(پ۴، اٰل عمران:۱۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان :اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبو ب ہیں۔