Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
419 - 627
 حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تقسیم پر اعتراض کرنے والے کو سزا کیوں نہیں دی گئی ؟
	جس نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی توہین کی وہ واجبُ القتل ہے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس شخص کو سزا نہیں دی، ہوسکتا ہے کہ اس کا یہ قول ثابت نہ ہوا ہو اورچونکہ صرف ایک صحابی نے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک یہ قول پہنچایا تھا اور ایک شخص کی گواہی پر کسی کو قتل نہیں کیا جاسکتا ۔ حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی روایت میں ہے کہ غزوہ حُنَیْن کی واپسی پر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چاندی تقسیم کی تو ایک شخص نے کہا: اے محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) عدل کرو! تو اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اجازت مانگی کہ میں اس کو قتل کردوں ، تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:(مَعَاذَ اللہ  )کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں ، تو یہ وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کو قتل نہیں کروایا ۔(اکمال المعلم، کتاب الزکوۃ، باب ذکر الخوارج وصفاتھم، ۳ /۶۰۷، تحت الحدیث:۱۰۶۴)
 غیبت کی جائز صورت 
	عَلَّامَہ اِ بنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتحُ الباریمیں فرماتے ہیں :’’ اس حدیث سے پتہ چلا کہ اگر کوئی شخص کسی حاکم یا مُعَظَّم و محترم شخصیت کے بارے میں کوئی ایسی بات کہے جو اُس کی شان کے خلاف ہو تو اسے اس بات کی اطلاع دینا جائز ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ غیبت کی یہ صورت جائز ہے کیونکہ جب حضرتِ سَیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ خبر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوپہنچائی تو آپ نے انہیں اس سے منع نہ فرمایا کیونکہ حضرتِ سَیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خیر خواہی کا ارادہ کیا اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں اس شخص کی نشاندہی کی جو منافق تھا تاکہ اس سے بچا جا سکے اور یہ جائز ہے جیسا کہ کفار