ثواب کی امید کرتے ہوئے حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے صبر کو مد نظر رکھااورصبرکیا۔ صبر کی کئی اقسام ہیں چنانچہ،اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنامولائے کائنات ،علیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِ خُدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: صبر تین قسم کا ہوتا ہے (۱) مصیبت پر صبر کرنا(۲)طاعت( نیک اعمال ) پر صبر کرنا (۳) معصیت سے صبر کرنا ۔پس جس نے مصیبت پر صبر کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے تین سو درجات لکھے گااور ہر درجہ کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان کی مَسافت( فاصلہ) ہے اور جس نے طاعت پر صبر کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے سات سو درجات لکھے گااور ہر درجہ کے درمیان ساتویں زمین سے لے کر مُنْتَھَائے عَرْش (اللہ تعالیٰ کے عرش کی انتہا تک)کا فاصلہ ہے اور جس نے معصیت سے صبر کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے نو سو درجات لکھے گا اور ہر درجہ کے درمیان ساتویں زمین سے لے کر مُنْتَھَائے عَرْش کا دُگنا فاصلہ ہے ۔ (شرح بخاری لابن بطال، کتاب الادب،باب الصبر علی الاذی، ۹/۲۸۳)
نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی توہین کُفر ہے
رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی توہین کرنا بالاِجماع کفر ہے اور توہین کرنے والا بالاتفاق واجبُ القتل ہے اور اس کی توبہ قبول کرنے میں ائمہ مذاہب کے مختلف اقوال ہیں خواہ توہین آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات کی ہو یا آپ کے نسب کی ،آپ کے دین میں ہو یا آپ کی کسی صفت میں ہو اور یہ توہین کرناخواہ صراحۃً ہو یا کنایۃً (چھپے الفاظ میں ) تَعْرِیْضاً ( ایسا کلام جس سے مراد کچھ اور ہو اور اشارہ کسی اور جانب ہو ) ہو یا تَلْوِیْحاً ( ایسا کلام جس میں بہت ہی دور کے معنی مراد لئے جائیں ) اسی طرح کوئی شخص آپ کو بد دعا کرے ، اسی طرح (معاذ اللہَ) کوئی شخص آپ پر لعنت کرے یا آپ کا بُرا چاہے ،آپ کے عوارضِ بشریہ یا آپ سے متعلق اشیاء یا اشخاص کا آپ کی طرف نسبت کرتے ہوئے بطریق طعن یا مَذَمَّت ذکر کرے، الغرض جس شخص سے کوئی ایسا کلام صادر ہو جس سے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی اہانت ظاہر ہو وہ کفر ہے اور اس کا قائل واجبُ القتل ہے ۔ (الشفاء للقاضی عیاض، الباب الاول فی بیان ما ھو فی حقہ سب او نقص من تعریض او نص، ۲/۲۱۴)