صبر کا اَجر تمام اعمال سے بڑھ کر
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار شرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نیک اَعمال کی جزا کے ساتھ ایک حد بھی بیان فرمائی جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا ۚ (پ۸، الانعام:۱۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان :جو ایک نیکی لائے تو اس کے لئے اس جیسی دس ہیں۔
پھر راہِ خدا میں خرچ کرنے کی جزا اِس سے بھی زیادہ رکھی اور فرمایا :
مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍؕ وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُؕ وَاللہُ وٰسِعٌ عَلِیۡمٌ﴿۲۶۱﴾
(پ۳، البقرۃ:۲۶۱)
ترجمۂ کنز الایمان :ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیںاُس دانہ کی طرح جس نے اُگائیں سات بالیںہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔
اور صبر کرنے والوں کا اجر بے حساب رکھا اور فرمایا:
وَلَمَنۡ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوۡرِ ﴿٪۴۳﴾ (پ۲۵، الشوری:۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان :اور بیشک جس نے صبر کیا اور بخش دیا تو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں۔
اذیت پر صبر کرنااپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا ہے یہ انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام و صالحین عظام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَامکے اوصاف میں سے ہے ۔ اگر چہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمام نفوس کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ وہ تکلیف اور مشقت پر درد محسوس کرتے ہیں جیسا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو انصاری کی بات سے تکلیف پہنچی حتی کہ آپ کا چہرۂ انور غصے سے سرخ ہوگیا لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صبر کیا اور پُر سکون ہوگئے کیونکہ آپ صابرین کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے وعدے واجر کو جانتے تھے ۔چنانچہ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے