حدیث نمبر: 42 صبرِ مصطفٰے
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:لَمَّا کَانَ یَوْمَ حُنَیْنٍ اَثَرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نَاسًا فِی الْقِسْمَۃِ فَاَعْطَی الْاَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَۃً مِّنَ الْاِبِلِ،وَاَعْطٰی عُیَیْنَۃَ بْنَ حِصْنٍ مِثْلَ ذَالِکَ،وَاَعْطٰی نَاسًا مِّنْ اَشْرَافِ الْعَرَبِ وَاَثَرَھُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْقِسْمَۃِ۔ فَقَالَ رَجُلٌ:وَاللہِ اِنَّ ھٰذِہٖ قِسْمَۃٌ مَاعُدِلَ فِیْھَا،وَمَااُرِیْدَ فِیْھَا وَجْہُ اللہِ، فَقُلْتُ:وَاللہِ! لَاُخْبِرَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فَاَتَیْتُہُ فَاَخْبَرْتُہُ بِمَا قَالَ:فَتَغَیَّرَوَجْہُہُ حَتَّی کَانَ کَالصِّرْفِ۔ثُمَّ قَالَ:’’فَمَنْ یَّعْدِلُ اِذَا لَمْ یَعْدِلِ اللہُ وَرَسُوْلُہُ؟ ثُمَّ قَالَ:یَرْحَمُ اللہُ مُوْسٰی قَدْأُوْذِیَ بِاَکْثَرَ مِنْ ھٰذَا فَصَبَرَ‘‘فَقُلْتُ: لَاجَرَمَ لَا اَرْفَعُ اِلَیْہِ بَعْدَھَا حَدِیْثًا۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہ(بخاری،کتاب فرض الخمس،باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعطی المؤلفۃ قلوبھم، ۲/۳۵۹، حدیث:۳۱۵۰)
ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ غزوۂ حنین میں نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مالِ غنیمت تقسیم فرماتے ہوئے بعض لوگوں کو ترجیح دی، اَقْرَع بِن حَابِس کو سو اُونٹ دئیے عُیَیْنَۃ بِن حِصْن کو بھی اتنے ہی دیئے شرفائے عرب میں سے بھی بعض کو ترجیحاً کچھ زیادہ مال دیا، ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا گیا اور نہ رضائے الٰہی کو پیشِ نظر رکھا گیا (حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مَسْعُوْد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ) میں نے کہا :اللہ کی قسم! میں ضرور نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بتاؤں گا ۔چنانچہ، میں نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکریہ واقعہ بیان کردیا ،یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چہرۂ انور سرخ ہوگیا، فرمایا: اگر اللہ اور اس کا رسول انصاف نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟ پھر فرمایا: اللہعَزَّوَجَلَّموسیٰ (عَلَیْہِ السَّلَام) پر رحم فرمائے انہیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔(حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مَسْعُوْد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )فرماتے ہیں : میں نے کہا کہ آیندہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں اس قسم کی بات نہیں پہنچاؤں گا۔