اور لَات و عُزّٰی کی عبادت کرو لیکن اس قدر تکلیف جھیلنے کے بعد بھی حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زبان پر اَحَد اَحَد ہی جاری رہتا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ذکرعدوان المشرکین علی المستضعفین، ۱/۲۹۷)
حضرتِ سَیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مبارک ومُقَدَّس پیٹھ
حضرتِ سَیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی پوری پیٹھ پر زخموں کے سفید نشانات تھے ۔ اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پوچھا :اے خَبَّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ! یہ زخموں کے نشان کیسے ہیں ؟ عرض کی : اے اَمیرُالْمُؤمِنِیْنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ! جب میرے دل میں محبت ِرسو ل کی شمع روشن ہوئی اور میں دامنِ اسلام سے وابسطہ ہوا تو کفارِ مکہ نے مجھے دہکتے ہوئے کوئلوں پر پیٹھ کے بَل لٹا دیا اور میری پیٹھ کی چربی سے انگارے بجھائے گئے میں کئی گھنٹے بے ہوش رہا رَبِّ کعبہ کی قسم ! جب مجھے ہوش آیا تو سب سے پہلے میری زبان سے یہ کلمہ نکلا ’’لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے یہ حالات سن کر اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی آنکھیں بھر آئیں ،فرمایا: اے خَبَّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ! کُرتا اُٹھاؤ! میں تمھاری اس پیٹھ کی زیارت کروں گا۔ اللہ اللہ! یہ پیٹھ کتنی مبارک و مقدس ہے جو مَحَبَّتِ رسول میں جلائی گئی ہے۔(الطبقات الکبری لابن سعد، خباب بن الارت، ۳/۱۲۲)
مدنی گلدستہ
’’اَلمد ینہ‘‘ کے 7 حروف کی نسبت سے حد یث مذکور
اور اسکی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے مصائب کے حل کے لئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا کرتے تھے ۔
(2) ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے علمِ غیب کی دولت سے مالا مال فرمایا ۔اسی لئے تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آنے والے واقعات کی خبر دی اور بتا دیا کہ ایک دور ایسا