Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
413 - 627
بھی درد محسوس نہ ہوا ۔ ابن کیسان علیہ رحمۃُ الْمَنّان  کا قول ہے کہ وہ زندہ ہی اُٹھا کر جنت میں پہنچا دی گئیں ، پس وہ جنت میں کھاتی اور پیتی ہیں۔	(عمدۃ القاری، کتاب احادیث الانبیائ، باب وضرب اللہ مثل للذین آمنوا… الخ، ۱۱/۱۴۴)
	جس طرح سابقہ امتوں کے مومنین پر طرح طرح کے نا قابل برداشت ظلم کئے گئے حتی کہ انہیں انتہائی بے دردی سے شہید کیا گیالیکن وہ دینِ برحق پر قائم رہے۔ اسی طرح سَیِّدُ الصَّابِرِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تربیت یافتہ مؤمنین نے بھی دینِ اسلا م کی خاطر ایسی ایسی قربانیاں دیں کے جن کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ،دہکتے ہوئے انگاروں اور صحرائے عرب کی بھڑکتی ہوئی ریت پر برہنہ جسم لیٹ جانا، گھوڑوں کے ساتھ بندھ کر جسم کو درمیان سے چِروا لینا ، جلتے ہوئے تیل میں بخوشی کود جانا، اپنے جگر کے ٹکڑوں کو بخوشی میدانِ جہاد میں بھیج کر انکی شہادت پرشکرالٰہی بجا لانا ،گھر بار، مال واسباب، خاندان واہل عیال اور اپنے آبائی وطن کو چھوڑ کر ہجرت کر جانا، دشتِ کربلا میں خاندانِ نبوت کے لاڈلوں کا بھوک پیاس کی حالت میں ایک ایک کر کے شہید ہوجانا، اپنے دودھ پیتے بچوں کواپنے سامنے تیروں سے چھلنی ہوتا دیکھنا ، الغرض سابقہ امت کے مومنین نے جتنی قربانیاں دیں ، اس سے کہیں زیادہ قربانیاں نبیِّ آخرالزماں ، شہنشاہِ کون و مکاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلاموں نے دیں یہ سب بارگاہِ رسالت کا فیض تھا کہ ایسے ایسے مصائب پر صبر کیا جن کو سن کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ 
حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا صبر 
	حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وہ صحابیِ رسول ہیں جو بالکل آغاز ِاسلام میں مشرف بہ اِسلام ہوئے۔ ایسے خوفناک ماحول میں جب اِسلام لانے کی پاداش میں سخت ترین مصائب و آلام سے دو چار ہونا پڑتا تھا، حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو کفارِ مکہ سخت سے سخت اذیتیں دیتے تھے۔ ان کا آقا اُمَیہ بن خلف تپتی ہوئی دھوپ میں ان کو مکہ کے صحرا میں پیٹھ کے بَل لٹاتا اور ایک بڑا پتھر ان کے سینے اقدس پر رکھواتا اور حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو کہتا میں تمہیں ایسے ہی سزا دیتا رہوں گا یہاں تک کہ مر جاؤ گے یا پھر تم اپنے نبی محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا انکار کردو