Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
412 - 627
طرف ، دَارُالْمِحَن(امتحان کے گھر) سے نکل کر دارُالاَمن(اَمن کے گھر) کی طرف، تیرے پاس سے چھوٹ کر اپنے رب کی رحمت کی طرف جائیں گے۔ا یسی کامیاب موت پر ہزاروں زندگیاں قربان ہوں اتنا سن لے کہ ہم نے کوئی قصور نہیں کیا ہے جس سے ہم سزائے موت کے مستحق ہوں۔ ہمارا جرم صرف یہ ہے کہ ہم اپنے رب کی آیات پریا آیات کے ذریعہ پر ایمان لائے، یہ ایمان کمال ہے عیب نہیں ، یہ کہہ کر وہ اسی جگہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہو کر عرض کرنے لگے کہ مولیٰ اب تُو ہم پر صبر بہادے، جس سے ہم نہا کر پاک و صاف ہوجاویں اور ہم کو ایمان، اپنی اطاعت پر موت نصیب فرما ! اٰمین۔(ملخصا تفسیر نعیمی ۹/ ۸۴۔۹۲۔۹۸ )
 سب سے پہلے سولی کس نے دی؟
	حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُاللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں کہ فرعون نے سب سے پہلے سولی دی اور اِسی نے ہاتھ پاؤں مخالف سمت میں سب سے پہلے کاٹے تھے۔‘‘( تفسیر الطَّبَری، پ۹، الاعراف، تحت الایۃ: ۱۲۴،۶/۲۴ )
حضرتِ سَیِّدَتُنَا آسِیَہ بِنْت مُزَاحِم
	حضرتِ سَیِّدَتُنا  آسِیَہ بِنْتِ مُزَاحِمْ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرعون کی بیوی تھیں۔ حضرت آسیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے جب جادوگروں کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامکے مقابلہ میں مغلوب ہوتے دیکھ لیا تو فوراً اُن کے دل میں ایمان کا نور چمک اُٹھا اور وہ ایمان لے آئیں۔ جب فرعون کو خبر ہوئی تو اس ظالم نے ان پر بڑے بڑے عذاب کئے، بہت زیادہ زدو کوب کے بعد چومیخا کردیا یعنی چار کھونٹیاں گاڑ کر حضرت آسیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے چاروں ہاتھوں پیروں میں لوہے کی میخیں ٹھونک کر چاروں کھونٹوں میں اس طرح جکڑ دیا کہ وہ ہل بھی نہیں سکتی تھیں اور دھوپ کی تپش میں ڈال دیا اور بھاری پتھر ان کے سینے پر رکھنے کا حکم دیا جب پتھر لایا گیا تو حضرت آسیہ نے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی: یاربعَزَّوَجَلَّ! میرے لئے جنت میں ایک گھر بنا دے ، انہیں جنت میں سفید موتیوں سے بنا ہوا ان کا گھر دکھا دیا گیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کر لی پس جب ان کے جسم پر پتھر رکھا گیا تو ان کے جسم میں روح نہیں تھی تو انہیں کچھ