Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
411 - 627
 بولے کہ ہم اُس پر ایمان لائے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے یعنی وہ جسے حضرت مُوْسٰی و ہَارُوْنعَلَیْہِمَا السَّلَام رَبُّ الْعَالَمِیْن بتاتے ہیں جو اُن دونوں کا رب ہے، اس پر ہم ایمان لائے، فرعون اور اس کی رَبُوْبِیَّت (خدا ہونے)کے عقیدے سے ہم پھِر گئے، توبہ کرتے ہیں۔
	 فرعون جب اس میدان سے سخت شکست کھا کر بدحواسی میں بھاگا، گھر پہنچ کر ہوش ٹھکانے آئے اور اسے پتہ لگا کہ جادو گر تو سجدے میں گر کر موسی عَلَیْہِ السَّلَام اور اسکے رَب پر ایمان لے آئے تو اسے اپنی قوم کے سامنے سخت شرمندگی ہوئی تب اس نے اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے جادو گروں کو پھر جمع کیا مگر اس دفعہ موسی عَلَیْہِ السَّلَام اس مجمع میں نہ تھے۔ ان سے بولا کہ تم لوگ میری رعایا ہو، تم نے میری اجازت کے بغیر دل میں حضرت موسی عَلَیْہِ السَّلَام کی مَحَبَّت کیوں قائم کی، دماغ میں انکی عظمت کیوں سوچی، سر سجدہ میں کیوں رکھا، زبان سے وہ کلمات کیوں کہے، تمہارے یہ اعضاء یعنی دل، دماغ، سر ، زبان میری ملکیت ہیں ، تم نے انہیں میری اجازت کے بغیر کیوں استعمال کیا؟ تم میری اجازت کے بغیر ایمان لائے ہو یہ تمہارا ایک قصور ہے۔ اور تمہارادوسرا قصور یہ ہے کہ تمہیں شکست اور موسیٰ(عَلَیْہِ السَّلَام) نے فتح نہیں پائی ہے۔بلکہ تم نے اس مقابلہ سے پہلے مصر میں یا مقابلہ کے وقت ’’اِسْکَنْدَرِیَہ‘‘ میں ایک سازش کرلی تھی۔ موسیٰ (عَلَیْہِ السَّلَام) تم سب کے استاد ہیں تم سب ان کے شاگرد تم نے دیدہ دانستہ یہ کھیل رچایا ہے، تاکہ تمہاری ظاہری شکست دیکھ کر میں اپنی سلطنت سے دستبردار ہوجاؤں اور میری قوم کو اس علاقے سے نکال کر خود رَاج کرو، سن لو! ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ میں تم کو تمہارے کئے کی سزا دوں گا تم اپنی سزا عنقریب جان لو گے، میں پہلے تو تمہارے دو طرفہ ہاتھ پاؤں کٹواؤں گا، یعنی ایک طرف کا ہاتھ، دوسری طرف کا پاؤں پھر تم کو درخت میں سولی دوں گا۔ تم میں سے کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ 
	 جادو گر جوکہ اب پَکّے مومن بن چکے تھے فرعون کی یہ دھمکی سن کر بولے کہ ہم کو تیری دھمکیوں کی پرواہ نہیں کیونکہ اس صورت میں ہماری موت شہادت کی ہوگی اور ہم دَارُالْفَرَار(دنیا) سے نکل کر دَارُالْقَرَار (آخرت) کی