Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
410 - 627
مصیبت پر صبر کرنے کی وجہ سے تیرے دونوں بیٹے تجھے لوٹا دیئے گئے ہیں اورتیرے شوہر نے تجھے طلاق نہیں دی تھی،لہٰذا اب تو اس کے پاس چلی جا ،وہ گھرآچکا ہے اور اس کی ماں کا بھی انتقال ہوگیا ہے ۔ جب وہ عورت اپنے گھر گئی تَو تمام معاملہ ویسا ہی پایا جیسا اسے بتا یا گیا تھا ۔‘‘ (الروض الفائق، ص۱۲۲)
جان دے دی مگر ایمان نہ دیا 
	جب حضرتِ سَیِّدُنا موسی عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرعون کوپیغام حق پہنچایا تو بجائے قبول کرنے کے وہ بدبخت اپنے ملک کے بڑے بڑے جادو گروں کو آپ عَلَیْہِ السَّلَامکے مقابلے میں لے آیا پھر اس مقابلے کا انجام کیا ہوا آیئے تفسیر نعیمی کی روشنی میں جانتے ہیں : چنانچہ، ’’ تفسیرِ نعیمی  میں ہے کہ جب جادوگروں نے اپنا پورا زَور صَرف کردیا اور اپنی رسیاں پھینک کر میدان مقابلہ کو مصنوعی سانپوں ، اژدہوں سے بھردیا لوگوں کو ڈرادیا توحضرتِ سَیِّدُنا موسی عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس وحی آئی کہ اب موقع ہے آپ اپنا عصا ڈالیں۔ چنانچہ، آپ نے عصا ڈالا۔ عصا ڈالنا تھا کہ وہ ایک بہت بڑا اَژدَھا بن گیا اور اس میدان کے سارے مصنوعی سانپوں ، اژدھوں کو ایک ایک کرکے نگل گیا، دیکھتے ہی دیکھتے میدان بالکل خالی ہوگیا، پھر اس نے تماشائیوں کی طرف رخ کیا۔ سارے فرعونیوں میں بھگدڑ مچ گئی، بہت سے لوگ کچل کر مر گئے، آپ نے اس کی گردن پکڑ کر اٹھایا تو پھر وہی ہلکی پھلکی لاٹھی تھی، حق یعنی توحید، نَبُوَّتِ مُوسَوِی ، عصا کا معجزہ ہونا، دِیْنِ مُوْسَوِی کا درست ہونا، ثابت بلکہ ظاہر ہوگیا اور آج تک جو کچھ جادو گر کرتے رہے تھے اس کا باطل ہونا سب کو معلوم ہوگیا۔
	جادوگروں نے سوچا کہ اگر عصا مُوْسَوِی بھی ہمارے سانپوں کی طرح ایک شُعْبَدَہ(جادو) یا نظر بندی ہے تو ہمارے رَسّے، بانس، بَلّے جو سینکڑوں مَن تھے کہاں گئے اور اِس قدر وَزنی چیز نگل جانے کے بعد اس کا وزن ایک ماشہ بھی نہ بڑھا۔ یقیناً وہ معجزہ ہے اور موسی عَلَیْہِ السَّلَام سچے نبی ہیں۔ چنانچہ، وہ خود نہیں گرے بلکہ رب کی طرف سے سجدے میں گرادیئے گئے، انہوں نے شکریہیا اظہارِ وفاداری یا اپنے ایمان کے لیے سجدہ کیا اور سجدہ میں گر کر بلند آواز سے