ہمارے لئے مدد طلب کیوں نہیں فرماتے؟ تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کفار پر ہماری مدد فرمائے یا ان پر اپنا کوئی عذاب نازل فرمائے ،یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کودعا پر ابھارنے کے لئے تھااور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو پچھلی امتوں کی مثال دینا اور فرمانا کہ تم جلدی کرتے ہو ،اس کا مطلب یہ ہے کہ جلدی نہ کرو اور صبر سے کام لواور ہم نے تمہیں پچھلی امتوں کا جوحال سنایا اس پر خود کو رکھ کر صبر کرو۔ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اس طرح پچھلی امتوں کے واقعات سنانے کا مقصد یہ تھا کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا صبر مزید پختہ ہو جائے ۔
(ملخصا عمدۃ القاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ، ۱۱/۳۴۶ تحت الحدیث:۳۶۱۲)
مومنوں پر ظلم
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیث ِمذکور کے تحت فرماتے ہیں :’’پچھلی امتوں میں مومنوں پر ایسی سختی کی جاتی تھی کہ انہیں زندہ ہی آرے سے چیر دیا جاتا تھا۔ وہ چِر جاتے تھے مگر ایمان نہ چھوڑتے تھے نہ اُن مصیبتوں سے گھبراتے تھے۔اور لوہے کی نوکیلی اور دھار دار کنگھیاں ان کی کھوپڑی میں ٹھونکی جاتی تھیں ، جب وہ دماغ کی تہہ تک پہنچ جاتی تھیں تو انہیں پیچھے کی طرف زور سے کھینچا جاتا تھا جس سے ان کا بھیجہ تک کھنچ کر باہر نکل پڑتا تھا، مگر وہ لوگ اس کے باوجود نہ گھبراتے تھے، نہ ایمان چھوڑتے تھے۔ تم تو خَیْرُالْاُمَم (بہترین اُمت) ہو تمہاری اِسْتِقَامَت ان سے زیادہ چاہیے۔ دُنیاوی تکالیف سے مت گھبراؤ یہ عارضی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسروں کے قصے سنا کر تسلی دینا سنتِ رسول ہے بلکہ قراٰن کریم نے بھی اس قسم کے بہت سے واقعات بیان فرمائے ہیں۔اور یہاں دین پورا ہونے سے مراد ہے اِسلام کا پھیلنا ، مسلمانوں کا غالب آجانا، کفار کا مغلوب ہوجانا ،مسلمانوں کی سلطنت میں اَمن و امان قائم ہوجانا۔ اس ایک کلمہ میں بہت سی بشارتیں ہیں ، ربّ کریم فرماتا ہے:
وَیَابَی اللہُ اِلَّا اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہُ (پ۱۰، التوبۃ:۳۲) ترجمۂ کنز الایمان :اور اللہ نہ مانے گا مگر اپنے نور کا پورا کرنا اور فرماتا ہے: