Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
407 - 627
لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ (پ۱۰، التوبۃ:۳۳) ترجمۂ کنز الایمان :کہ اُسے سب دینوں پر غالب کرے۔	 (مراٰۃ المناجیح ، ۸ /۱۲۱)
بارگاہِ رسالت میں دعا کی درخواست
	شارح بخاری فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نُزْھَۃ القاری شرحِ بخاری میں فرماتے ہیں :(حضرتِ سَیِّدُناخَبَّاب بِنْ اَرَت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو)   مشرکین سے سخت تکلیفیں پہنچی تھیں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ غلام تھے اُن کا مکۂ مکرمہ میں کوئی حامی و یاوَر (مددگار)نہ تھا اس لئے اُن پر سِتم گر ایسے ایسے مظالم ڈھاتے تھے جسے سن کر روح لرز جاتی ہے۔ انہیں دہکتے ہوئے انگاروں پر لٹا کر سینہ پر بھاری پتھر رکھ کر چڑھ جاتے اور اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک اَنگارے بجھ نہ جاتے۔ ایک دفعہ توان کے ظالم آقا نے لوہا تپا کر اُن کے سر کو داغ دیا۔ ان جان لیوا مصائب سے تنگ آکر انہوں نے (بارگاہ رسالت میں ) یہ درخواست پیش کی تھی۔ 
صَنْعَائ۔ یمن کا دار السلطنت تھا اور وہاں کا سب سے بڑا شہر۔
حَضْرَ مَوْت۔صَنْعَائسے چار دن سے زیادہ کی مَسافَت پر ایک شہر ہے اور اس کا بھی احتمال ہے کہ صَنْعَاء سے مراد شام کا صَنْعَاء ہو جو شام میں دِمَشْق کے بَابُ الْفَرَادِیْس کے اطراف میں ایک بستی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ آج انسان کا ایک شہر سے دوسرے شہر میں جانا خطرے سے خالی نہیں لیکن ایک وقت آئے گا کہ پورے عرب میں اِسلام پھیل جائے گا اور ایسا امن قائم ہوگا کہ کسی سفر میں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوگا اگر چہ وہ لمبا سفر ہو۔ (نزھۃ القاری ، ۴/ ۵۳۵ )
جسم کی کھال اُتار دی گئی 
	حضرتِ سَیِّدُنا حَسَن بَصْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے منقول ہے کہ’’ سابقہ اُمتوں میں ’’ عُقَیْب ‘‘ نامی ایک عابد ایک پہاڑی پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اسے خبر ملی کہ قریبی شہر میں ایک ظالم وجابر بادشاہ لوگوں پر بہت ظلم کرتا ہے ،بِلا وجہ ان کے ہاتھ پاؤں اور ناک ،کان کاٹ ڈالتا ہے ۔چنانچہ، وہ عابد اس ظالم حکمران کے پاس گیا