Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
405 - 627
حدیث نمبر: 41			ظلم پر صبر
	عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللہِ خَبَّابِ بْنِ الْاَرَتِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:شَکَوْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَۃً لَہُ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ،فَقُلْنَا:اَ لَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا، اَلَا تَدْعُوْلَنَا؟ فَقَالَ:قَدْکَانَ مَنْ قَبْلَکُمْ یُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَیُحْفَرُ لَہُ فِی الْاَرْضِ فَیُجْعَلُ فِیْھَا،ثُمَّ یُؤْتٰی بِالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِہٖ فَیُجْعَلُ نِصْفَیْنِ،وَیُمْشَطُ بِاَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَا دُوْنَ لَحْمِہِ وَعَظْمِہِ،مَایَصُدُّہُ ذٰلِکَ عَنْ دِیْنِہِ،وَاللہِ لَیُتِمَّنَّ اللہُ ھٰذَا الْاَمْرَحَتَّی یَسِیْرَالرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَائَ اِلٰی حَضْرَمَوْتَ لَا یَخَافُ اِلَّا اللہَ وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِہِ ،وَلٰٰکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُوْنَ‘‘رَوَاہُ الْبُخَارِی
(بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ۲/ ۵۰۳، حدیث:۳۶۱۲)
	ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا خَبَّاب بِنْ اَرَت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :ہم نے نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے (کفار کی) شکایت کی آپ اپنی چادر مبارک کو تکیہ بنائے کعبۃ اللہ شریف کے سائے میں لیٹے ہوئے تھے ۔ ہم نے عرض کی: آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے لئے مدد نہیں مانگتے ؟ آپ ہمارے حق میں دعا نہیں فرماتے؟ فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے کسی کو پکڑا جاتا پھر ایک گڑھاکھود کر اسے اس میں گاڑھا جاتا ،پھر ایک آرا لاکر اس کے سر پر چلایا جاتا اور اس کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے ،لوہے کی کنگھیاں پھیری جاتیں جو گوشت اور ہڈیوں تک پہنچ جاتیں لیکن اس کے باوجود وہ دین سے رو گردانی نہ کرتا ،اللہ عَزَّوَجَلّکی قسم ! اللہ تعالیٰ دینِ اسلام کی تکمیل فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سوارمقام صَنْعَاء سے حَضْرَ مَوْت تک سفر کرے گا، اُسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگااور نہ ہی اپنی بکریوں پر بھیڑیے کاخو ف ہوگا لیکن تم جلد بازی کرتے ہو۔
مصیبت پر صبر کرو
	علامہ بَدْرُالدِّیْن مَحْمُوْد بِنْ اَحْمَدعَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عُمْدَۃُ الْقَارِی شرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کرنا کہ آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ہمارے