مد نی گُلد ستہ
’’سبزگنبد ‘‘کے 7 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7 مدنی پھول
(1) دنیوی مصائب سے تنگ آکر موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے ۔
(2) خوش بخت ہے وہ مسلمان جس کی عمر طویل اور اعمالِ صالحہ کثیر ہوں۔
(3)دینی نقصان یا کسی فتنہ میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو موت کی تمنا کرنا جائز ہے ۔
(4) اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ملاقات کے شوق میں موت کی تمنا کرنا جائز ہے ۔
(5) بُرا ہے وہ شخص جس کی عمر طویل اور اعمال برے ہوں۔
(6) اگر موت کی دعا کرنا ضروری ہو تو یوں دعا کی جائے: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ جب تک میرے حق میں زندگی بہتر ہے مجھے زندہ رکھ جب موت بہتر ہو تو مجھے اس دنیا سے اٹھا لے ۔
(7) اگرچہ بعض صورتوں میں موت کی تمنا جائز ہے لیکن افضل یہی ہے کہ صبر کیا جائے اور اپنی تقدیر پر راضی رہا جائے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دین ودنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے، اگر ہمارے مقدر میں بدبختی لکھ دی گئی ہو تو اسے مٹا کر ہمیں نیک بخت لکھ دے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
یَمْحُوا اللہُ مَایَشَاءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہُ اُمُّ الْکِتَاب (پ۱۳، الرعد :۳۹)
ترجمۂ کنز الایمان :اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے، اور اصل لکھا ہوا اُسی کے پاس ہے
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد