Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
403 - 627
عرض کی: یہ کیسے ہوسکے گا ؟تو آپ نے فرمایا: اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے ہی ہوگا ۔چنانچہ، مسجدِ نبوی محرابُ النبی نماز کی حالت میں مصلائے مصطفٰے پرآپ کو کافر مجوسی اَبُو لُؤلُؤنے شہید کردیا، دعا کیا تھی کمان سے نکلا ہوا تیر تھا کہ جو کہا تھا وہی ہوا، کیوں نہ ہو، یہ رب کی مانتے ہیں رب ان کی مانتا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲ /۴۳۶)
 	 زندگی میں بہت سی پریشانیاں اور مشکلات آتی ہیں ، اگر بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے ثواب کی نیت سے مصائب پر صبر کرے تو اس کے لئے بھلائی ہی بھلائی ہے۔ صبر کی برکت سے گناہ مٹتے، درجات بلند ہوتے اور ثواب کا عظم خزانہ ملتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ گناہوں کا مِٹنا نیکیوں کا بڑھنا انسان کے لئے بہت بڑی بھلائی ہے کیونکہ مصیبت وقتی ہوتی ہے دنوں کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا اثر اس کا درد زائل ہو جاتا ہے جبکہ آخرت کا عذاب باقی رہنے والا اور بہت دردناک ہے ، لہٰذا ہرمسلمان کو چاہیے کہ صبر کے ذریعے مصیبت کا مقابلہ کرے آخرت کے فائدے کی طرف نظر رکھے اور اس مصیبت سے گھبرا کر موت کی تمنا نہ کرے ۔
	صَدْرُ الشَّرِیْعَہ  حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بہارِ شریعت میں فرماتے ہیں :مرنے کی آرزو کرنا اور اس کی دعا مانگنا مکروہ ہے، جبکہ کسی دنیوی تکلیف کی وجہ سے ہو، مثلاً تنگی سے بسر اوقات ہوتی ہے یا دشمن کا اندیشہ ہے مال جانے کا خوف ہے اور اگر یہ باتیں نہ ہوں بلکہ لوگوں کی حالتیں خراب ہو گئیں معصیت میں مبتلا ہیں اسے بھی اندیشہ ہے کہ گناہ میں پڑ جائے گا تو آرزوئے موت مکروہ نہیں۔(بہارِ شریعت ۳/ ۶۵۸ حصہ۱۶)
	 شیخِ طریقت امیر اہلِسنت بانیِ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃِ بارگاہ رسالت میں یوں استغاثہ کرتے ہیں : 
مجھے ہریالے گنبد کے تلے قد موں میں موت آئے		 سلامت لے کے جاؤ دین وایماں یَا رَسُوْلَ اللہ 
 میں ہوں سنی رہوں سنی مروں سنی مدینے میں 		 بقیع پاک میں بن جائے تُربَت یَا رَسُوْلَ اللہ 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد