Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
402 - 627
مرنے کی دعا جائز ہے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے منقول ہے :’’اِذَا اَرَدْتَّ بِقَوْمٍ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِیْ اِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُوْنَ‘‘ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! جب تو کسی قوم کے ساتھ عذاب و گمراہی کا ارادہ فرمائے (ان کے اعمالِ بد کے سبب) تو مجھے بغیر فتنے کے اپنی طرف اٹھا ۔ حدیث پاک میں ہے : تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے مگر جب کہ نیکی کرنے پر اعتمادنہ رکھتا ہو۔سرکار اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : خلاصہ یہ کہ دُنیوی مُضَرَّتوں (نقصانات) سے بچنے کے لئے موت کی تمنا ناجائز ہے اور دینی مُضَرَّت (دینی نقصان) کے خوف سے جائز ۔(فضائلِ دعا ،ص ۱۸۲) 
	اسی طرح بعض روایات میں بھی موت کی تمنا کرنے کا ذکر ہے۔ چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ قبر کے پاس گزرنے والا یہ نہ کہے گا: اے کاش اس کی جگہ میں ہوتا۔(بخاری، کتاب الفتن، باب لاتقوم الساعۃ حتی یغبط اہل القبور، ۴/۴۴۷، حدیث:۷۱۱۵)
	اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دعا کی : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!  میری عمر بڑھ گئی ، قوت کم ہوئی اور میری رعایا پھیل گئی تو مجھے وفات دے تاکہ میں ضائع کرنے والا اور کوتاہی کرنے والا نہ بنوں۔
(کنز العمال، کتاب الحدود، قسم الاقوال، ۳/۱۷۱، حدیث:۱۳۵۱۹، الجزء الخامس)
	مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : بیماری و آفات سے گھبرا کر موت نہ مانگے اور جس طریقہ سے دعا کی اجازت دی گئی ہے نہایت ہی پیارا طریقہ ہے ، کیونکہ اس خیرو شر میں دین و دنیا کی خیر و شر شامل ہے۔ گویا موت کی تمنا کہہ بھی لی مگر قاعدے سے ، خیال رہے کہ یہ کہنا جائز ہے: خدایا مجھے شہادت کی موت دے، خدایا مجھے مدینے پاک میں موت نصیب کر! چنانچہ، عمر فاروق ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)نے دعا کی تھی کہ مولا! مجھے اپنے حبیب (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے شہر میں شہادت نصیب کر !حضرت حفصہ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) نے