(3) نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہتر آدمی کی خبر نہ دوں ؟ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی :ہاں ! یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!فرمایا : اِسلام کی حالت میں جس کی عمر زائد ہو اور اچھے کام کرے ۔(کنز العمال، کتاب الاخلاق قسم الاقوال، ۲/۲۱، حدیث:۵۳۸۲، الجزء الثالث)
(4) حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے : قُضَاعَہ (قبیلہ ) کے دو شخص حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لائے ، ان میں سے ایک تو شہید ہوگیا اور دوسرا ایک سال بعد تک زندہ رہ کر انتقال کرگیا ، حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ بن عُبَیْدُ اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :میں نے دیکھا کہ بعد میں مرنے والا شخص شہید سے بھی پہلے جنت میں داخل ہوگیا۔ صبح میں نے یہ واقعہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیاتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :کیا اس نے شہید کے بعد ایک رمضان کے روزے نہ رکھے تھے اور چھ ہزار رکعت نمازاور اتنی اتنی سنتیں نہیں پڑھی تھیں ؟ (یعنی اس شخص نے ایک سال میں جو رمضان کے روزے اور نمازیں پڑھیں ان کے سبب اس کی نیکیاں شہید سے زیادہ ہوگئیں اس لئے جنت میں جلدی چلاگیا )۔(مسند امام احمد، مسند ابی ہریرہ،۳/۲۲۹،حدیث:۸۴۰۷)
معلوم ہوا کہ اگر انسان طویل عمر پائے اور اس میں خوب نیک اَعمال کرے تو یہ اس کے لئے زیادہ بہتر ہے کیونکہ نیک اعمال جتنے زیادہ ہونگے اتنے ہی درجات بھی زیادہ ہونگے جیسا کہ حدیث مذکو ر میں بیان ہو اکہ ایک مسلمان ایک شہید سے پہلے جنت میں داخل ہوگیا کیونکہ اس نے شہید سے ایک سال زیادہ عمر پائی اور اس نے اس ایک سال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اتنی عبادت کی کہ وہ نیک اعمال میں شہید سے بھی آگے نکل گیا ۔
موت کی تمنا کرنے کی جائز صورتیں
رَنج و مصیبت سے گھبرا کر موت کی تمنا کرنا ممنوع ہے ۔ہاں شوقِ وصلِ الٰہی (اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ملنے کے شوق)، صالحین سے ملنے کے اِشْتِیَاق (شوق)، دینی نقصان یا فتنے میں پڑ نے کے خوف سے موت کی تمنا کرنا جائز ہے، رَئِیْسُ الْمُتَکَلِّمِیْنحضرت علامہ مولانا نقی علی خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : جب دین میں فتنہ دیکھے تو اپنے