Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
400 - 627
(1) تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے اور وقت سے پہلے اس کی دعا نہ کرے کیونکہ جب کوئی مرجاتا ہے تو اس کے اعمال بھی مُنْقَطَع ہوجاتے ہیں اور مومن کے لئے زیادہ عمر میں بھلائی ہے ۔ ( مسلم ،کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار، باب کراہۃ تمنی الموت لضر نزل بہ، ص۱۴۴۱، حدیث:۲۶۸۲)
(2) تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر نیک ہے تو اُمید ہے کہ اس کی نیکیاں زائد ہوں گی اور اگر بد ہے تو شاید بھلائی کی طرف لوٹ آئے ۔(بخاری، کتاب التمنی، باب ما یکرہ من التمنی، ۴/۴۸۶، حدیث:۷۲۳۵)
(3) موت کی تمنا مت کرو کیونکہ نَزْع کی ہولناکی سخت ہے ، انسان کی عمر کا زائد ہونا نیک بختی ہے ممکن ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(مسند امام  احمد، مسند جابر بن عبد اللہ، ۵/۸۷، حدیث:۱۴۵۷۰)
(4) حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : اگر نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم موت کی تمنا کرنے سے منع نہ فرماتے تو میں تمنا کرتا۔ (بخاری، کتاب التمنی، باب ما یکرہ من التمنی، ۴/ ۴۸۶، حدیث:۷۲۳۳)
	 مذکورہ احادیث مبارکہ میں موت کی تمنا سے منع فرمایا گیا ہے ۔اس لئے موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے بلکہ درازی ٔ عمر بالخیر اور دارزیٔ عمر عَلَی الطَّاعَۃِ(یعنی نیکیوں والی لمبی زندگی) کی دعا کرنی چاہیے ، کیونکہ جس کی عمر زیادہ ہو گی اس کی نیکیاں بھی زیادہ ہونگی ۔ بہت سی احادیث میں لمبی عمر کی فضیلت بھی بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ، چار فرامین مصطفیٰ بیان کئے جاتے ہیں :
(1)حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی :’’ یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! سب سے بہتر کون ہے ؟‘‘ فرمایا:’’ جس کی عمر طویل اور عمل اچھا ہو۔‘‘پوچھا : سب سے بُرا کون ہے ؟ فرمایا :’’ جس کی عمر لمبی اور عمل بُرا ہو ۔‘‘(ترمذی ، کتاب الزھد باب منہ، ۴/۱۴۸، حدیث:۲۳۳۷)
(2) رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : تم میں بہتر وہ ہے جس کی عمر لمبی اور عمل اچھا ہو ۔(مسند امام احمد، مسند ابی ہریرۃ، ۳/۲۰، حدیث:۷۲۱۶)