کمزوری کی وجہ سے شاید رعایا سے متعلق احکام خداوندی صحیح طور سے بجا نہ لاسکیں یا کوئی ایسا کام نہ ہو جائے جو دنیا یا آخرت میں باعث ملامت ہو تو انہوں نے دعا کی کہ اے میرے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اس سے پہلے کہ میں عاجز ہو جاؤں یا مجھ پر ملامت کی جائے تو میری روح قبض فرما۔
اسی طر ح جب اَمیرُالْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنامولائے کائنات ،علیُّ الْمُرْتَضٰیشیرِ خُدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَریْمکو رعایا سے اُکتاہٹ یا رعایا کی ان سے اُکتاہٹ اور اس کے نتیجے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی یا دور نہ ہونے والے باہَمی اختلا ف کا خوف ہوا تو انہوں نے موت کی تمنا کی ۔ (شرح بخا ری لابن بطال،کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، ۹/۳۸۹)
تفہیم البخاری شرح بخاری میں ہے:اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ مصیبت کے وقت موت کی خواہش کرنا ممنوع ہے۔ بعض نے کہا یہ ’’نَہی‘‘ (موت کی تمنا سے منع کرنا ) آیتِ مقدسہ میں یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کے قول
تَوَفَّنِی مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِیْنَ (پ۱۳، یوسف:۱۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان :مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے ملا جو تیرے قربِ خاص کے لائق ہیں۔
اور حضرتِ سَیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کے قول
وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ (پ۱۹، النمل:۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان :اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو تیرے قربِ خاص کے سزاوار ہیں۔
اور اس حدیث ’’اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی‘‘ سے منسوخ ہے ۔(تفہیم البخاری، ۸/۷۴۵ )
افسوس ! آج کل اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے بہت سے لوگ گھریلو ناچاقیوں ،تنگی ٔمعاش ،کسی مُوذِی مرض یا اور طرح طرح کی پریشانیوں سے تنگ آکر موت کی تمنا کرتے دکھائی دیتے ہیں ، انہیں اس حدیث پاک سے عبرت حاصل کرنی چاہیے ۔بہت سی احادیث مبارکہ میں موت کی تمنا سے منع فرمایا گیاہے ۔چنانچہ، اس ضمن میں چار فرامین مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ فرمائیے !