Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
398 - 627
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے اور نہ ہی اس کے آنے سے پہلے اس کی دعا مانگے اس لئے کہ جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس کا عمل مُنْقَطَع (ختم)ہوجاتا ہے اور مومن کی عمر جتنی زیادہ ہو اتنی بہتر ہے۔‘‘
سوال : اگر کوئی کہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اپنے وِصال کے وقت یہ فرمانا: ’’اللھُمَّ اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی‘‘ (اے اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے ) یہ بھی تو موت کی تمنا ہی ہے ،اسی طرح اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب اور اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا علیُّ الْمُرْتَضٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے موت کی تمنا فرمائی( تو اس میں کیاحکمت تھی ) حالانکہ حدیث پاک میں موت کی تمنا سے منع فرمایاگیا ہے ؟ 
 جواب : ان احادیث مبارکہ میں کوئی تَعَارُض(ٹکراؤ) نہیں ہے کیونکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانا:’’اللھُمَّ اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی‘‘موت کی تمنا نہیں کیونکہ وہ ملائکہ جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو رب سے ملاقات کی خوشخبری دے رہے تھے آپ نے انہیں دیکھ کر جان لیا تھا کہ اب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ہونے والا ہے اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پہلے ہی فرمادیا تھا کہ ’’تمہارے والد کو آج کے بعد کوئی تکلیف نہ پہنچے گی۔ ‘‘اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : کسی نبی کی روح اس وقت تک قَبْض نہیں کی جاتی جب تک کہ اسے اِختیار نہ دیا جائے ،پھر جب میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا (اللھُمَّ اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی) تو میں سمجھ گئی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وِصال ہونے والا ہے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیا میں رہنا  اختیار نہیں فرمایا اور آخرت کی زندگی کو پسند فرمایا اور اپنی امت کو بھی یہی تعلیم دی ۔ 
(شرح بخا ری لابن بطال،کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، ۹/۳۸۷)
	اسی طرح  حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو جب یہ خوف لاحق ہوا کہ بڑھاپے اورجسمانی