Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
395 - 627
 حدیث نمبر :39 		 مصیبت بھلائی کی علامت ہے 
	عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ  یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ یُرِدِ اللہُ بِہِ خَیْرًا یُصِبْ مِنْہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِی ۔ وَضَبَطُوْا یُصَِبْ بِفَتْحِ الصَّادِ وَکَسْرِہَا
(بخاری ، کتاب المرضی ، باب ماجاء  فی کفارۃ المرض، ۴/۴، حدیث:۵۶۴۵)
	ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ جس سے بھلائی کا ارداہ فرماتا ہے اس کو مصائب میں مبتلا فرماتا ہے۔’’یُصَِبْ‘‘ صاد کے زبر اور زیر دونوں کے ساتھ آتا ہے۔
گناہوں کا کفارہ
	عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شرح  بخاری میں فرماتے ہیں :’’ حدیث کا معنی یہ ہے کہ مومن کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ۔‘‘ (شرح بخاری لابن بطال ،کتاب المرضی ،باب ماجاء فی کفارۃ المرضی، ۹/۳۷۱ )
 	عَلَّامَہ حَافِظ اِبِنْ حَجَرعَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فَتْحُ الْبارِی شرحِ بخاریمیں فرماتے ہیں : اَبُو عُبَیْد ہَرَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  مسلمان کو مصیبت میں مبتلا کرتا ہے تاکہ اس پر اسے ثواب دے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل سے مروی ہے کہ’’ جب اللہعَزَّوَجَلَّکسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں مصائب میں مبتلا فرماتا ہے تو جس نے صبر کیا اس کے لئے صبر ہے اور جس نے جَزَع (بے صبری) کی اس کے لئے جَزَع ہے ۔‘‘(مسند امام احمد ، باقی مسند الانصار، ۹/۱۶۰، حدیث:۲۳۶۹۵) 	ان احادیثِ مبارکہ میں بندہ ٔ مومن کے لئے بڑی بشارتیں ہیں کیونکہ انسان کو کبھی نہ کبھی مرض یا غم کی وجہ سے تکلیف ضرور پہنچتی ہے اور مرض ، دکھ ،درد ،تکلیف بدنی یاقلبی تمام کی تمام مصیبتیں مومن کے گناہوں کو مٹاتی ہیں۔
(فتح الباری، کتاب المرضی، باب ماجاء  فی کفارۃ المرض، ۱۱/۹۳،  تحت الحدیث:۵۶۴۵)