Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
394 - 627
کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دعا کی :یا اللہ عَزَّوَجَلَّ !میں تجھ سے ایسے بخار کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے، تیرے گھر اور تیرے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مسجد شریف کی طرف جانے سے نہ روکے۔ اس کے بعد حضرت ِ سَیِّدُنا اُبَی بِنْ کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو روزانہ شام کے وقت بخار ہوجایا کرتا تھا۔ (التر غیب والترھیب ،کتاب الجنائز ، باب التر غیب فی الصبر…الخ، ۴/۱۵۳، حدیث:۸۲)
(4)پہاڑ کے برابر گناہ معاف
	فرمانِ مصطفٰے  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے :’’ جب کوئی مرد یاعورت مسلسل بخار یا سر درد میں مبتلا ہو اور اس پر اُحُد پہاڑ کی مثل گناہ ہوں توجب وہ بیماری اُس سے جدا ہوتی ہے تو اس کے سر پر رائی کے برابر بھی گناہ نہیں ہوتے۔‘‘(التر غیب والترھیب، کتاب الجنائز ، باب التر غیب فی الصبر…الخ، ۴/۱۵۱،حدیث:۶۷)
مدنی گلدستہ
’’صالحین‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حد یث ِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے  6مدنی پھول
(1) مومن کو پہنچنے والی چھوٹی سے چھوٹی مصیبت یا تکلیف بھی اس کے گناہوں کی معافی کا سبب بنتی ہے ۔
(2) تکلیف یا مرض کی وجہ سے مومن کے گناہ درخت کے پتوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں۔
(3) بار گاہِ خداوندی میں جو جتنا زیادہ مُقَرَّب ہوتا ہے اس پر اتنے ہی زیادہ مصائب و آلام آتے ہیں۔سب سے زیادہ مصائب انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام پر اورپھر اُن کے بعد درجہ بدرجہ اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام پر آتے ہیں۔
(4) مصیبت پر صبر کرنے سے گناہوں میں کمی اورنیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔
(5)بخار باعثِ رحمت ہے کہ انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام کو بھی بخار ہواکرتا تھا ۔
(6)بخار کو بُرا کہنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اس کے ذریعے گناہ جھڑتے اور نیکیاں بڑھتی ہیں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد