Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
396 - 627
	مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : انسان صبر سے وہاں پہنچتا ہے جہاں دیگر عبادات سے نہیں پہنچ سکتا۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲/ ۴۱۰)
	حدیث ِمذکور میں  مصیبت پر صبر کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ،مصیبت کا آنا خیر کی علامت ہے ، اس لئے جب کوئی مصیبت آن پڑے تو صبر سے کام لیا جائے ،شکوہ وشکایت کے الفاظ اپنی زبان پر نہ لائے جائیں اور نہ ہی لوگوں کے سامنے پریشانی کا اظہار کیا جائے ۔کیونکہ مصیبت پر صبر کرنا گناہوں کے مِٹنے اور درجات کی بلندی کا سبب ہے۔
مدنی گلدستہ
پَنْجتَن پاک کی نسبت سے حد یثِ مذکوراور اسکی
وضاحت سے ملنے والے5مد نی پھول
(1)مصیبتوں کا آنا انسان کے حق میں بہتری کی علامت ہے ۔
(2) صبر وہ عظیم نیکی ہے جس کے ذریعے انسان وہ مقام و مرتبہ پالیتا ہے کہ دوسری نیکیوں کے ذریعے اسے حاصل نہیں کرسکتا۔ 
(3) مصائب میں وہی مسلمان مبتلا ہوتا ہے جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ  محبت فرماتا ہے ۔
(4)مصائب وآلام سے گھبرا کر بے صبری نہیں کرنی چاہیے بلکہ صبر کر کے عظیم اجر حاصل کرنا چاہیے۔
(5) بے صبری سے مصیبتیں دور نہیں ہوتی بلکہ صبر پر ملنے والا اجر ضرور ضائع ہو جاتا ہے۔
	اللہعَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنی دائمی محبت سے مالا مال فرمائے ،اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، سَیِّدُ الصَّابِرِیْن رَحْمَۃٌ لِّلْعٰالَمِیْن  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے ہمارا حشر صابرین کے ساتھ فرمائے!
 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم