Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
393 - 627
جاسکتا کہ آپ کی بیماری خطاؤں کی معافی کے لیے ہو آپ کو گناہ و خطا سے نسبت ہی کیا ، آپ کی بیماری صرف بلندیٔ درجات کے لیے ہوسکتی ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں سے ہم گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں ان سے نیک کاروں کے درجے بڑھتے ہیں۔ (حدیث ِمذکور میں )مسلمان سے مراد گنہگار مسلمان ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲ / ۴۱۰)
 	بخار ایک رحمت بھری بیماری ہے۔ چنانچہ، اس ضمن میں بخار کی فضیلت پر مشتمل 4 روایات ملاحظہ فرمائیے !
(1)بخار گناہوں کو دور کر دیتا ہے
	حضرتِ سَیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُمّ سائب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھاکے پاس تشریف لائے تو اُن سے پوچھا:’’ تمہیں کیا ہوا؟ کیوں کانپ رہی ہو؟‘‘ عرض کی: مجھے بخار ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ اس میں برکت نہ دے !حضو ر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’بخار کو برا نہ کہو کیونکہ یہ آدمی کے گناہوں کو اس طرح دور کردیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کردیتی ہے۔‘‘
( مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب ثواب المومن ، ص۱۳۹۲، حدیث: ۲۵۷۵)
(2)صرف اچھائی باقی رہ جاتی ہے 
	 خَاتمُ الْمُرْسَلِین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’بندۂ مومن کو جب لُولگتی ہے یابخار ہوتاہے تو اس کی مثال اس لو ہے کی طر ح ہوتی ہے جسے آگ میں ڈالا گیا تو آگ نے اس کا زنگ دور کردیا اور اچھا ئی باقی رکھی۔‘‘(مستدرک،کتاب معرفۃ الصحابۃ، ذکر مناقب عبدالرحمن، ۴/۵۳۶، حدیث:۵۸۸۰)
 (3)ہر وقت نیکیاں ہی نیکیاں 
	حضرتِ سَیِّدُنا اُبَی بِنْ کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یَارَسُوْلَ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !بخار کا ثواب کیا ہے ؟‘‘ ارشاد فرمایا: جب تک بخار میں مبتلاشخص کے قد م میں درد رہتا ہے اور اس کی رگ پھڑکتی رہتی ہے اسے اسکے عوض نیکیاں ملتی رہتی ہیں۔ یہ سن کرحضرتِ سَیِّدُنا اُبَی بِنْ