Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
392 - 627
حدیث نمبر 38: 		بخار سے گناہ جھڑتے ہیں 
	عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُوْعَکُ فَقُلْتُ:یَا رَسُوْلَ اللہِ! إِنَّکَ تُوْعَکُ وَعْکًا شَدِیْدًا؟ قَالَ:أَجَلْ إِنِّیْ أُوْعَکُ کَمَا یُوْعَکُ رَجُلَانِ مِنْکُمْ، قُلْتُ:ذٰلِکَ أَنَّ لَکَ أَجْرَیْنِ ؟ قَالَ:أَجَلْ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُصِیْبُہُ أَذًی،شَوْکَۃٌ فَمَا فَوْقَہَا إِلَّا کَفَّرَاللہُ بِہَا سَیِّئَاتِہٖ، وَحُطَّتْ عَنْہُ ذُنُوْبُہُ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ  ’’وَالْوَعْکُ‘‘ مَغْثُ الْحُمّٰی ، وَقِیْلَ :اَلْحُمّٰی
(بخاری، کتاب المرضی، باب اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الاول، ۴/۵، حدیث:۵۶۴۸) 
	ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مَسْعُوْد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :میں نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا آپ بخار میں مبتلا تھے ، میں نے عرض کی:’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ کو تو شدید بخار ہے۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ ہاں ! مجھے تمہارے دو آدمیوں کے برابر بخار ہے ۔ ‘‘ میں نے عرض کی: یہ اس لئے کہ آپ کو دوگنا ثواب ملے ؟ فرمایا:’’ہاں یہی بات ہے اور اسی طرح جب کسی مسلمان کو کانٹاچبھے یا اس سے زائد کسی مصیبت سے تکلیف اٹھانی پڑے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے بدلے اُس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کے گناہ اِس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت اپنے پتوں کو گرا دیتا ہے ۔‘‘ ’’اَلْوَعْکُ‘‘ بخار چڑھنے کو کہتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف بخار کو بھی کہتے ہیں۔
 	اس حدیث کے تحت مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت   مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : معلوم ہوا کہ غلام آقا کی مزاج پُرسی بھی کرے اور اس کے جسم کو ہاتھ بھی لگائے، خیال رہے کہ بخار مرضِ انبیا ہے، ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات بخار ہی سے ہوئی ۔
	( کیا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کا یہ بخار آپ کے اجر میں اضافے کے لئے ہے؟) اس کے تحت مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں : یہ ہے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا ادب و احترام یعنی یَا رَسُوْلَ اللہ ! یہ تو وہم بھی نہیں
 کیا