حدیث یہ ہے کہ صابر مسلمان کی تھوڑی تکلیف بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہے، صوفیائے کرام (رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام) فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو عبادتوں میں لذت نہ آئے، اُس پر اُسے غم ہو یہ بھی گناہوں کی معافی کا باعث ہے، عبادات کی لذت پانے والا لذت کے لئے بھی عبادت کرتا ہے مگر اس سے محروم (شخص )خالص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے( عبادت کرتا ہے )۔‘‘ ( مراٰۃ المناجیح ، ۲/۴۱۰)
مومن کے لئے خیر ہی خیر ہے
اللہ عَزَّوَجَلَّکا خاص کرم ہے کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب میں مبتلا کر کے ان مصائب کو ان کے گناہوں کا کفارہ بنادیتا ہے، دنیا میں کسی بھی انسان کی ہمیشہ ایک جیسی حالت نہیں رہتی۔ کبھی خوشی ہوتی ہے تو کبھی غمی ،کوئی دن اس کے لئے نویدِ مسرت لے کر آتا ہے تو کوئی پیغامِ غم۔ کبھی اس کی ذات پر مصیبت آتی ہے تو کبھی اس کے کاروبار پر، کبھی بدن پر تو کبھی گھر بارپر، اس طرح انسان پر بے شمار مصیبتیں آتی ہیں ، لیکن مسلمان کے لئے ان تمام معاملات میں خیر ہی خیر ہے اگر اسے کوئی مصیبت پہنچے اور و ہ صبر کرے تو یہ اس کے لئے بھلائی ہے اور خوشی ملنے پر رَبّ تعالیٰ کا شکر کرے تو یہ بھی بھلائی ہے ۔الغرض صابر و شاکر مسلمان ہر حال میں کامیاب ہے ۔
مدنی گلدستہ
’’احمد‘‘ کے 4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4 مدنی پھول
(1)مسلمان پر آنے والی ہر مصیبت اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے۔
(2) مصیبت جتنی بڑی ہو اتنے ہی بڑے گناہ کا کفارہ بنتی ہے ۔
(3) جس مصیبت پر رضا کے ساتھ صبر کیا جائے اس کا ثواب اس مصیبت سے زیادہ ہے جو بغیر رضاکے ہو۔
(4) نیک اعمال چھوٹ جانے پر جو غم ہو تا ہے وہ غم بھی گناہوں کے لئے کفارہوتا ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد