حدیث نمبر: 37 گناہوں کا کفّارہ
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا ھَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا اَذًی وَلَا غَمٍّ ،حَتَّی الشَّوْکَۃِ یُشَاکُھَا اِلَّا کَفَّرَ اللہُ بِھَا مِنْ خَطَایَاہُ۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔(بخاری، کتاب المرضی ، باب ماجاء فی کفارۃ المرض، ۴/۳، حدیث:۵۶۴۱)وَالْوَصَبُ اَلْمَرَضُ
ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدری اور حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے روایت کرتے ہیں کہ’’مسلمان کو تھکاوٹ ، بیماری، غم، تکلیف وغیرہ حتی کہ کانٹا بھی چُبھ جائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ ‘‘ ’’وَصَب‘‘ بیماری کو کہتے ہیں۔
علامہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں : انسان کو اس کے ارادے کے مطابق آیندہ آنے والے خطرات سے جو تکلیف پہنچتی ہے اسے ھَمّ کہتے ہیں۔ ماضی میں جو تکلیف پہنچی ہو اُسے حُزْن کہتے ہیں ،ھَمّ اور حُزْن یہ دونوں باطنی تکلیفیں ہیں۔ غیر کی زیادتی سے جو تکلیف پہنچے اسے اَذَی (اذیت) کہتے ہیں۔ ایسی چیز جس سے دل تنگ ہو جائے اسے غم کہتے ہیں۔
(عمدۃ القاری، کتاب المرضٰی، باب ماجاء فی کفارۃالمرض، ۱۴/۶۳۹، تحت الحدیث:۵۶۴۱)
فَتْحُ الْبارِی شرح بخاری میں ہے :اِمَام قَرَافِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الکَافِیفرماتے ہیں :’’یقینا مصائب وآلام گناہوں کا کفارہ ہیں ، چاہے ان کے ساتھ بندے کی رضا ملی ہوئی ہو یا نہ ہو ۔ ہاں مصائب پر راضی رہنے کی صورت میں یہ مصائب بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں جبکہ بغیر رضا کے کم گناہوں کا کفارہ ۔ تحقیق یہ ہے کہ مصیبت جتنی بڑی ہو گی اتنے ہی بڑے گناہوں کا کفارہ ہوگی اگر بندہ مصیبت پر راضی رہے تو اس پر بھی اُسے (الگ) اجر دیا جائے گا۔ اگر مصیبت زدہ پر کوئی گناہ نہ ہو تواسے اس کے بدلے اتنا ثواب دے دیا جائے گا۔ (فتح الباری، کتاب المرضی، باب ماجاء فی کفارۃ المرض،۱۱/۹۰، تحت الحدیث:۵۶۴۱)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’ خلاصۂ