خدا کی بات سن کر مُضحِکَے میں ٹال دیتے تھے نبی کے جسمِ اَقدس پر نجاست ڈال دیتے تھے
تَمَسْخُرْ کرتا تھاکوئی ،کوئی پتھراُٹھاتاتھا کوئی توحید پر ہنستاتھا کوئی منہ چِڑاتا تھا
قریشی مرد اُٹھ کرراہ میں آواز کَستے تھے یہ ناپاکی کے چھَرَّے چار جانب سے برستے تھے
کلامِ حق کوسن کر کوئی کہتا تھا شاعر ہے کوئی کہتا تھا کاہن ہے کوئی کہتا تھاساحِر ہے
مگر وہ مَنْبعِ حِلم وحیا خاموش رہتا تھا دعائے خیر کرتا تھا جفا و ظلم سَہتا تھا
اللہعَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی اپنے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے دینِ اسلام کی راہ میں آنے والی مصیبتوں پر صبرکرنے کی توفیق عطا فرمائے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مدنی گلدستہ
’’رحمتِ عالَم‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مد نی پھول
(1) انسانوں میں سب سے زیادہ قوت برداشت انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام میں ہوتی ہے ، اِنہیں سب سے زیادہ ستا یا جاتا ہے اور یہ سب سے زیادہ صبر کرنے والے ہوتے ہیں۔
(2)انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام کو جتنا زیادہ ستایا جائے ان کا حِلْم اتنا ہی زیادہ بڑھتا جاتا ہے ۔
(3) کفار کے لئے دعائے مغفرت ناجائز، ہاں ان کے لئے ہدایت کی دعا کرنا جائز ہے۔
(4) صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو اپنے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ایسا عشق تھاکہ وہ اپنے محبوب نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَداؤں کے تصور میں گُم رہا کرتے تھے۔
ایسا گما دے ان کی وِلامیں خدا ہمیں ڈھونڈاکریں پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو
(5) جاہل کا گناہ عالِم کے گناہ سے ہلکا ہوتا ہے۔