کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بادَل مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے اس بادل میں سے جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام) نے مجھ سے کہا: اللہعَزَّوَجَلَّ نے آپ کی قوم کی باتوں سے باخبر ہے اور اب آپ کی خدمت میں مَلَکُ الْجِبَال( پہاڑوں پر مؤکل فرشتہ) حاضر ہے ۔ وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرے گا ۔چنانچہ، مَلَکُ الْجِبَال نے سلام کیا اور عرض کی : اے محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)!اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کی قوم کی باتیں سن لیں ہیں اب مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا گیا ہے آپ جو چاہیں حکم فرمائیں میں آپ کا حکم بجا لاؤں گا ،اگر آپ حکم دیں تو میں ان دو پہاڑوں کو ان پر اُلٹ دوں تاکہ کچل جائیں اور ہلاک وبرباد ہوجائیں ؟ رحمت عالَم، شافِعِ اُمَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: میں امید کرتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی نسلوں سے اپنے ایسے بندوں کو پیدا فرمائے گا جو صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہی عبادت کریں گے اور شرک نہیں کریں گے۔ (شرح المواہب، ۲/ ۵۱)
اگر یہ لوگ آج اسلام پر ایمان نہیں لاتے خدائے پاک کے دامان وحدت میں نہیں آتے
مگر نسلیں ضرور ان کی اسے پہچان جائیں گی درِ توحید پر اک روز آکر سر جھکائیں گے
ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دو جہاں کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے۔ کفارِ نا ہِنجار آپ کو بہت ستاتے کبھی سَرِ اَقدس پر کُوڑا کَرکَٹ ڈال دیا جاتا ، راستے میں کانٹے بجھائے جاتے ،سجدے کی حالت میں پُشْتِ مبارک پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی جاتی علاوہ اَزیں کفارِ بد اَطْوار آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ عظمت نشان میں گستاخانہ جملے بکتے پھَبْتِیاں کَستے مَعَاذَ اللہ آپ کو کاہن وجادو گر کہتے۔ مگرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صبر سے کام لیتے کوئی جوابی کاروائی نہ کرتے وَرنہ اگر چاہتے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دشمنوں کا نام نشان تک مٹ جاتا لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دعائیں دیں۔
پیمبرد عوتِ اسلام دینے کو نکلتا تھا نویدِ راحت وآرام دینے کو نکلتا تھا
نکلتے تھے قریش اس راہ میں کانٹے بچھانے کو وجودِ پاک پرسو سو طرح کے ظلم ڈھانے کو