Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
386 - 627
حضرتِ سَیِّدُنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  دوڑ دوڑ کر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر آنے والے پتھروں کو اپنے بدن پر لیتے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بچاتے تھے یہاں تک کہ وہ بھی خون میں نہا گئے ۔ (شرح المواہب، ۲/۵۰ ، ۵۱)
	آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زخموں سے نڈھال ہوکر انگور کے ایک باغ میں داخل ہوئے ۔ یہ باغ مکۂ مکرمہ کے ایک مشہور کافر عُتْبَہ بِنْ رَبِیْعَہ کا تھا۔ جب عُتْبَہ بِنْ رَبِیْعَہ اور اس کے بھائی شَیْبَہ بِنْ رَبِیْعَہ نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ حالت دیکھی تو کافر ہونے کے باوجود انہوں نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے باغ میں ٹھہرالیا اور اپنے نصرانی غلام عَدَّاس کے ہاتھ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں انگور کا ایک خوشہ بھیجا۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بِسْمِ اﷲ پڑھ کر خوشہ کو ہاتھ لگایاتو عَدَّاس تعجب سے کہنے لگا : یہاں کے لوگ تو یہ کلمہ نہیں بولا کرتے! یہ سن کر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے دریافت فرمایا: تمہارا وطن کہاں ہے؟ کہا :میں ’’شہر نِیْنَوَی‘‘  کا رہنے والا ہوں۔فر مایا: وہ حضرتِیُوْنُس بِنْ مَتَیعَلَیْہِ السَّلَام کا شہر ہے۔ وہ بھی میری طرح خدا عَزَّوَجَلَّ کے رسول تھے ۔ یہ سن کر عَدَّاس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاتھ پاؤں چومنے لگا اور فوراً ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ (شرح المواہب، ۲/۵۴،۵۶ )
	اس سفر کے مدتوں بعد ایک مرتبہ اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے نبیِّ کریم،     رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دریافت کیا: یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا جنگ اُحُد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپ پر گزرا ہے؟ فرمایا : ہاں !اے عائشہ !(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) وہ دن میرے لئے جنگ اُحُد کے دن سے بھی زیادہ سخت تھا جب میں نے طائف میں وہاں کے ایک سردار’’عَبْد یَالِیْل‘‘ کو اسلام کی دعوت دی۔ اس نے دعوت اسلام کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا اور اہل طا ئف نے مجھ پر پتھربرسائے ۔ میں اس رنج و غم میں سرجھکائے چلتا رہایہاں تک کہ مقام ’’قَرْنُ الثَّعَالِب‘‘ میں پہنچ کر مجھے کچھ آرام ملا  وہاں جب میں نے سر اٹھایا تو