Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
385 - 627
نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دعوت ِاسلام کے لئے جب طائف گئے تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلام حضرتِ سَیِّدُنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ تھے۔ طائف میں بڑے بڑے اُمرا اور مالدار رہتے تھے۔ ان میں ’’عَمْرو‘‘ کا خاندان تمام قبائل کا سردار سمجھا جاتا تھا۔ یہ تین بھائی تھیعَبْدیالِیْل،مَسْعُوْد،حَبِیْب۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان تینوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں اِسلام کی دعوت دی۔ ان تینوں نے اِسلام قبول نہیں کیا بلکہ انتہائی بیہودہ اور گستاخانہ جواب دیا۔ ان بدنصیبوں نے اسی پر بس نہیں کیابلکہ طائف کے شریر غنڈوں کو ابھارا کہ یہ لوگ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ برا سلوک کریں۔چنانچہ، شریروں کا یہ گروہ ہر طرف سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ٹوٹ پڑا اور یہ شرارتوں کے مجسمے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر پتھر برسانے لگے یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقدس پاؤں زخموں سے لہولہان ہو گئے اور آپ کے موزے اور نعلین مبارک خون سے بھر گئے۔ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زخموں سے بے تاب ہو کر بیٹھ جاتے تو یہ ظالم انتہائی بے دردی کے ساتھ آپ کا بازو پکڑ کر اُٹھاتے اورجب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چلنے لگتے تو پھر پتھروں کی بارش کرتے ۔طعنہ زنی کرتے،گالیاں دیتے اور تالیاں بجاتے ہوئے ہنستے ۔
بڑھے اَنبوہ در اَنبوہ پتھرلے کے بیگانے 		لگے مِینہ پتھروں کا رحمت عالَم پہ برسانے
وہ اَبرِ لطف جنکے سائے کو گلشن ترستے تھے		 یہاں طائف میں اس کے جسم پر پتھر برستے تھے
وہ بازو جو غریبوں کو سہارا دیتے رہتے تھے		 پیاپے آنے والے پتھروں کی چوٹ سہتے تھے
وہ سینہ جس کے اندر نورِحق مستور رہتا تھا		وہی اب شق ہوا جاتا تھا اس سے خون بہتا تھا
جگہ دیتے تھے جن کو حاملانِ عرش آنکھوں پر		وہ نعلین مبارک ہائے خوں سے بھر گئیں یکسر
حضور اس  جَور سے جب چُور ہو کر بیٹھ جاتے تھے		شقی آتے تھے بازو تھام کر اوپر اٹھاتے تھے