Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
384 - 627
جائے یہ بالاجماع جائز نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مغفرت، ایسی توبہ سے کِنایہ ہو جو مغفرت کوواجب کرنے والی ہو۔ یہ اس نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا کمال حِلْم اور حسن اخلاق تھا کہ گناہ ان کی قوم نے کیا اور آپ نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اُن کا عُذر پیش کیاکہ انہوں نے یہ جرم اس وجہ سے کیا ہے کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول کو نہیں جانتے۔‘‘
(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر، ۹/ ۱۷۴، تحت الحدیث:۵۳۱۳) 
	مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیثِ پاک کے اِن الفاظ (کَاَنِّی اَنْظُرُ اِلٰی رَسُوْلِ اللہ گویا میں اب بھی رسول اللہ کو دیکھ رہا ہوں )  کے تحت فرماتے ہیں :’’یہ ہے تصورِ رسول ،  حضرات صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانہروقت  اپنے محبوب نبی (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی اَداؤں کے تصور میں رہتے تھے : 
ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا		تصور میں ترے رہناعبادت اس کو کہتے ہیں
	 نبی سے مراد یا تو نوح عَلَیْہِ السَّلَام ہیں جواپنی قوم سے بڑی تکلیف اُٹھاتے تھے حتیٰ کہ کئی کئی دن بے ہوش رہتے تھے، ہوش آنے پر پھر جاتے تبلیغ فرماتے یا خود حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات پاک مراد ہے ۔یہ واقعہ طائف کی تبلیغ اور اُحدشریف کے جہاد کا ہے کہ حضورِ اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان ظالم کفار کو دعائیں دیتے جاتے تھے چہرۂ پاک سے خون صاف کرتے جاتے تھے۔  تاکہ خون آنکھوں یا منہ میں نہ پڑے یا زمین پر نہ گرے زمین پر گرنے سے عذابِ الٰہی آجانے کا اندیشہ تھا۔ ’’(میری قوم کو) بخش دے‘‘( اس کے)معنی یہ ہیں کہ تو انہیں ایمان کی توفیق دے عذاب نہ دے ورنہ کفار کے لئے بخشش کی دعا بحکمِ قراٰن ممنوع ہے ،نہ جاننے کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ مجھے پہچانتے نہیں اگر پہچانتے ہوتے تو یہ حرکت نہ کرتے ۔ 		(مراٰۃ المناجیح، ۷/۱۲۶) 
 طائف کا سفر
وہ ہادی جو نہ ہوسکتا غَیْرُ اللہ سے خائف		چلا اک روز مکے سے نکل کر جانبِ طائف
دیا پیغام حق طائف میں طائف کے مکینو ں کو  	دکھائی جنسِ روحانی کمینوں کو خسیسوں کو