Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
383 - 627
حدیث نمبر: 36			پتھر مارنے والوں کو دعائیں 
	عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ:’’کَأَنِّیْ اَنْظُرُ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَحْکِیْ نَبِیّاً مِّنَ الأَنْبِیَائِ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِمْ،ضَرَبَہُ قَوْمُہُ فَأَدْمَوْہُ،وَہُوَ یَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْہِہٖ ،یَقُوْلُ:اللھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَإِنَّہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔‘‘مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ
(بخاری،کتاب احادیث الانبیائ، باب حدیث الغار،۲/۴۶۸ حدیث:۳۴۷۷)
	ترجمہ:حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُاللہ بِنْ مَسْعُوْد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں : گویا کہ میں اب بھی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھ رہا ہوں ، جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَام کے بارے میں بیان فرمارہے تھے کہ اُن کی قوم نے اُنہیں اس قدر مارا کہ لہو لہان کر دیا اور وہ اپنے چہرئہ انور سے خون پونچھتے ہوئے فرمارہے تھے: یااللہ ! میری قوم کو بخش دے یہ (مجھے )جانتے نہیں۔
	علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں :معلوم ہواکہ وہ نبی (عَلَیْہِ السَّلَام) حلم وصبروالے ،عفوودرگزر کرنے والے اوراپنی قوم پر بہت شفیق تھے، اپنی قوم کے لئے ہدایت کی دعاکرتے تھے ۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب الجہاد والسیر،باب غزوۃ احد،۶/۱۵۰،الجزء الثانی عشر)
	عَلَّامَہ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتحُ الْبَاریمیں فرماتے ہیں :’’ شاید وہ نبی حضرتِ سَیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامتھے ۔ قوم نے آپ پر تشدد کیا اور آپ کا گلا گھونٹا یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہوگئے جب اِفاقہ ہواتودعاکی: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ میری قوم کو بخش دے کیونکہ یہ لوگ مجھے نہیں جانتے۔‘‘ (فتح الباری، کتاب احادیث الانبیائ، باب حدیث الغار، ۷ / ۴۳۴، تحت الحدیث:۳۴۷۷)
	مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی  مِرْقَاۃُ الْمَفَاتِیْح میں فرماتے ہیں :’’اُس نبی عَلَیْہِ السَّلَامنے اپنی قوم کیلئے دعاکی: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میری قوم کو بخش دے‘‘ اس کامعنی یہ ہے کہ تو انہیں دنیا میں عذاب نہ دے اور نہ ہی ان کی نسلو ں کو ختم کر! ورنہ یہ بات تومعلوم ہے کہ کفار کے لئے مغفرت طلب کرناکہ ان کے شرک اور کفرکو معاف کر دیا